مذہبی رواداری سے معاشرے میں امن و سکون پیدا ہوتا ہے،سردار محمد یوسف

February 16, 2026 · قومی

 

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی کا مقصد معاشرے میں محبت، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے اور پاکستان ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے آزادی کے ساتھ اپنی عبادات اور تہوار منا سکتے ہیں۔وہ کیتھڈرل چرچ لاہور میں منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

 

سرداریوسف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی دہشت گردی کا کسی مذہب یا مسلک سے تعلق نہیں، تمام دہشت گرد انسانیت اور ملک کے دشمن ہیں جن کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مذہبی رواداری سے معاشرے میں امن و سکون پیدا ہوتا ہے اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے تمام طبقات کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قوم کو متحد ہو کر سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا۔ پاکستان کی پہچان اس کا اتحاد ہے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

 

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے معاون حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بین المذاہب اتحاد کا فروغ آسان عمل نہیں تاہم علما نے ہمیشہ چرچ اور مسجد کی سطح پر مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین اقلیتوں کو برابری کے حقوق دیتا ہے اور کسی غیر مسلم کی جانب ہتھیار اٹھانا شرعا سخت وعید کا باعث ہے۔طاہراشرفی نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں خود کش حملوں کے بعد علمائے کرام زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتالوں میں موجود رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد نچلی سطح پر اتحاد اور برداشت کو فروغ دینا ہے۔

 

وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیل داس کوہستانی کا کہناتھا کہ حکومت تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی زیادتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مذہبی ہم آہنگی کو سرحدوں سے آگے بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

 

وزیر اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج قرار دیا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بند گوردواروں کو بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن اور محبت کی سرزمین ہے۔

 

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ مشترکہ نکات پر ہونا چاہیے اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے سماجی رابطوں کے ذرائع کو ذمہ داری سے استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے نفرت انگیز مواد کی روک تھام بھی ضروری ہے۔

 

چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے خطاب میں کہا کہ مذہبی ہم آہنگی محبت کی آواز ہے جسے ملک بھر میں عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان میں انتہا پسندی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ہتھیار اٹھانے کو غیر شرعی عمل کہا گیا ہے۔

 

بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ پاکستان میں مسیحی برادری ملک کی ترقی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے اور امن کا پیغام ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جائے گا۔

 

کانفرنس سے علامہ ڈاکٹر حسین اکبر، ناصر مدنی، فیلبوس کرسٹوفر اور بشپ ندیم کامران سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور مذہبی رواداری، قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔