باجوڑ: سکیورٹی چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، 10 اہلکار شہید، متعدد زخمی
باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی میں سکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 10 سکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ تحصیل لوئی ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر کیا گیا۔
اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ چیک پوسٹ ایک ایسی عمارت میں قائم تھی جہاں پہلے ایک مدرسہ بھی فعال تھا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ایک پولیس اہلکار اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 9 جوان شہید ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ذرائع کے مطابق ملبے سے اب تک 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ دو زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی دبے ہو سکتے ہیں، جس کے باعث ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ تاحال پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی انتظامیہ اور پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ماموند حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے حملے میں ایک بچی اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ دہشت گردی پورے ملک کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے جس کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔”
انہوں نے ریسکیو اداروں کو فوری امدادی کارروائیاں مکمل کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔