پی ٹی آئی دھرنے کی وجہ سے پشاور-اسلام آباد اور ہزارہ موٹروے مکمل بند
پی ٹی آئی کے دھرنے کی وجہ سے پشاور-اسلام آباد اور ہزارہ موٹروے مکمل بند، مسافروں اور مریضوں کی مشکلات بڑھ گئیں
نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) نے کہا ہے کہ مظاہروں کے باعث پشاور-اسلام آباد (ایم ون) اور ہاکلہ-ڈی آئی خان (ایم-14) موٹرویز مختلف مقامات پر بند ہیں۔ این ایچ ایم پی کے مطابق، پشاور سے اسلام آباد کی جانب جانے والی ایم ون موٹروے صوابی انٹرچینج سے برہان انٹرچینج تک دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے جبکہ مردان-رشکئی انٹرچینج بھی بلاک ہے۔ حکام نے شہریوں کو جی ٹی روڈ کا متبادل راستہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایم-14 موٹروے، جسے سی پیک کا مغربی روٹ بھی کہا جاتا ہے، ڈی آئی خان کے نزدیک یارک انٹرچینج سے سی پیک انٹرچینج عیسیٰ خیل تک بلاک ہے۔ گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے پشاور سے اسلام آباد جانے والی موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر راستہ بند کر دیا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے پنجاب کی طرف جانے والے راستے بھی بھکر روڈ، قریشی موڑ، چشمہ روڈ اور سی پیک روڈ پر دھرنے کی وجہ سے بند ہیں۔
پی ٹی آئی کے دھرنے کے باعث ہزارہ موٹروے حویلیاں انٹرچینج کے قریب سے بھی ٹریفک مکمل بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ہزارہ موٹروے پر برہان کے قریب ایک ایمبولینس میں موجود میت کو بھی مشتعل کارکنان نے آگے جانے نہیں دیا۔
ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جانے والی ہزارہ موٹروے پر احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا، جس کے باعث حویلیاں سے ہزارہ موٹروے مکمل طور پر بند رہی اور گاڑیاں موٹروے پر جام ہو کر رہ گئیں۔ ایبٹ آباد کی سیاسی پولیس موٹروے کھلوانے کے بجائے احتجاج کرنے والے کارکنان کی حفاظت کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں شاہراہ قراقرم پر متبادل راستوں میں بھی شدید خلل پیدا ہوا اور چند منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔
ہزارہ موٹروے کی بندش سے مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر موٹروے کھلوانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔