پاکستان میں انگریزی طرز کے شکار کی مہم ۔ایک انگریز شکاری کی یادداشتیں
انگریز مصنف چارلس مورنے پاکستان میںپشاور ویل ہنٹ (Peshawar Vale Hunt) کے دلچسپ سفرکی رودادبیان کی ہے۔ یہ شکار میدانی علاقے یا وادی میں کیا جاتاہے۔اس میں شکاری کتے استعمال ہوتے ہیں جو لومڑی یا گیدڑوں کا پیچھاکرکے انہیں جالیتے ہیں۔
چارلس بتاتے ہیں کہ وہ انگریزی طرز کے شکار (ہاؤنڈز یعنی شکاری کتوں کے ساتھ ) کے بے حد شوقین ہیں، لیکن برطانیہ میں قانونی پابندیوں سے تنگ آ کر انہوں نے پاکستان کا رخ کیا، جہاں پشاور ویل ہنٹ (PVH) آج بھی زندہ ہے۔
پشاور ویل ہنٹ کی بنیاد 1860 میں برطانوی افسروں نے گیدڑوں کے شکار کے لیے رکھی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، مگر 1960 کی دہائی میں ختم ہو گیا۔ 2019 میں ،شکار کے شوقین اور انگلستان کی ثقافت سے لگاؤ رکھنے والےفیصل علی خان نامی ایک شخص نےاس کا دوبارہ آغاز کیا اور اس کا مرکز پنجاب کے گاؤں نورپور کو بنایا۔انہوں نے اس کے لیے شکاری کتوں کا ایک جھنڈ (pack) بنانا شروع کیا۔ ۔پی وی ایچ (PVH) اب شکار کی عالمی شہرت یافتہ وائٹ بک میں بھی درج ہو چکا ہے۔
2022 میں، اپنے کزن کے زیرِ اہتمام ہونے والےگراؤنڈ سویل (Groundswell) ری جنریٹیو فارمنگ فیسٹیول میں میری ملاقات ڈورسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک طویل قامت نوجوان برٹی الیگزینڈر سے ہوئی، جو ہمیشہ سے شکاری کتوں کے ساتھ شکار کرنے کا تمنّائی تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ کام پیچیدہ ضرور ہے مگر نہایت شاندار ہے۔ تین سال سے زائد عرصےبعد، میں بھی یہی شوق رکھنے والے چند انگریز مرد و خواتین کے ساتھ جاملا۔
اس شکار کی میزبانی اورانتظامات نون خاندان کر رہا تھا، جس کےسربراہ عدنان نون تھے۔ ان کا بیٹا تیمور اور برطانوی نوجوان برٹی الیگزینڈر اس شکار کے نگران تھے۔ یہ خاندان ایک قدیم اور معزز راجپوت خاندان ہے جس کے بزرگ سر فیروز خان نون پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔
مصنف جب نورپور پہنچے تو ان کا استقبال روایتی طریقے سے ڈھول، پھولوں اور اونٹ گاڑی کے ساتھ کیا گیا۔ وہاں انہوں نے نون خاندان کی خوبصورت حویلی، گھوڑے، شکاری کتے (جو خاص طور پر برطانیہ سے منگوائے گئے ہیں) اور پولو کے میدان دیکھے۔
پہلے دن پورے گاؤں کے لیےفٹ ہنٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں 150 کے قریب مقامی لوگ اپنے کتے (لورچر) لے کر شریک ہوئے۔ اس دن برٹی نے جھاڑیوں سے گیدڑ نکالے اور مقامی شکاریوں نے ان کا پیچھا کیا۔
اگلے دن گھوڑوں پر سوار ہو کر شکار کا آغاز ہوا۔ یہ قافلہ اسی مقام سے گزرا جہاں 326 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے راجہ پورس کے خلاف جنگ کے لیے دریا پار کیا تھا۔ سفر کے دوران شرکاء نے دریا کے کنارے خیموں میں رات گزاری جہاں صوفیانہ قوالی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
سفر کے آخری دن حویلی کے سبزہ زار پر روایتی لان میٹ (Lawn Meet) ہوئی، جہاں شکاری کتوں اور گھوڑوں کے ساتھ برطانوی انداز میں تقاریر ہوئیں اور اس قدیم کھیل کی یاد تازہ کی گئی۔
مصنف کے لیے یہ سفر برطانیہ کی پابندیوں سے دور، مہم جوئی اور دو مختلف ثقافتوں کے خوبصورت ملاپ کا ایک یادگار تجربہ تھا۔
انہوں نے لکھاکہ گھوڑوں پر سوار ہوتے ہی ہمارا سامنا ایسے مناظر سے ہوا جو انگلینڈ کے گھوڑوں کو ڈرا دیتے—شور مچاتے بچے، بھونکتے کتے، سکوٹر اور سڑک کنارے چرتے اونٹ۔ بالکل انگلینڈ کی طرح یہاں بھی شکاری کتوںنے گیدڑوں کا پیچھا کیا اور گنے کے کھیتوں اور مالٹے کے باغات میں مٹر گشت کیا۔ یہاں سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب ایک طرف سے شکاری بگل کی آواز گونجی اور دوسری طرف سے مسجد سے اذان کی صدا سنائی دی، جو دو مختلف ثقافتوں کا خوبصورت امتراج تھا۔
ناشتے کے بعد عدنان نون ہمیں نیزہ بازی دکھانے لے گئے۔ نون خاندان کے بیٹوں (تیمور اور سیف) اور برٹی کی ٹیم نے گاؤں کے کھلاڑیوں کو ہرا کر ٹرافی جیتی۔ اس موقع پر ایک چھوٹے بچے نے اپنے سدھائے ہوئے سفید کبوتر کا کرتب دکھا کر سب کے دل جیت لیے۔
اگلی صبح جب ہم گاؤں کی سیر پر نکلے تو دو لڑکوں نے اپنی پرانی سائیکلوں پر نیزہ بازی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ عدنان نون نے خوشی سے انہیں اپنے پولو گراؤنڈ میں موقع دیا۔ جس لڑکے کی سائیکل کے دونوں پیڈل سلامت تھے، وہ جیت گیا۔
نورپور کا آخری اور سب سے عجیب تجربہ سانپ پکڑنے والوں (جوگیوں) سے ملاقات تھی۔ روایتی لباس پہنے ان دو افراد نے بین بجا کر باغ میں چھپے دو سانپ ڈھونڈ نکالے۔ انہوں نے کمال مہارت سے سانپوں کو پکڑا، ان کا زہر نکالا اور انہیں تھیلوں میں بند کر دیا۔ یہ کسی جادو سے کم نہ تھا۔
مصنف کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے سفر کا اختتام لاہور میں کیا، لیکن یہ کہانی دیہی زندگی کے بارے میں تھی۔ پاکستان کے اس دیہی علاقے میں ہمیں وہ خوشی اور آزادی ملی جو برطانیہ میں نایاب ہو چکی ہے۔