انسانی دانت تیسری بار اگانا بھی ممکن، سائنس کی حیرت انگیز دریافت

February 17, 2026 · ہیلتھ

 

جاپانی محققین کی ایک ٹیم نے شارک مچھلی کی طرح انسانوں میں بھی دوبارہ دانت اگانے کی صلاحیت پیدا کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔ 2021 کی ایک تحقیق کے مطابق، USAG-1 نامی جین سے بننے والی پروٹین کوکنٹرول کرکے جان داروں میں دانتوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔ اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے، ٹیم نے 2024 میں انسانی تجربات (clinical trials) کا آغازکیاگیا، اور انہیں امید ہے کہ 2030 تک یہ دوا عام استعمال کے لیے دستیاب ہو جائے گی۔

 

اوساکا کے کٹانو اسپتال میں شعبہ دندان سازی کے سربراہ اور لیڈ ریسرچر کاتسو تاکاہاشی نے اس بارے میں کہا کہ نئے دانت اگانے کا تصور ہر ڈینٹسٹ کا خواب ہے۔ میں اپنی گریجویشن کے دنوں سے ہی اس پر کام کر رہا ہوں اور مجھے یقین تھا کہ میں اسے حقیقت میں بدل دوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے وقت کی امید کر رہے ہیں جب دانت دوبارہ اگانے کی دوا، مصنوعی دانتوں (dentures) اور امپلانٹس کے ساتھ تیسرے انتخاب کے طور پر دستیاب ہوگی۔

 

تاکاہاشی نے برسوں دانتوں کے دوبارہ اگنے کی صلاحیت پر تحقیق کی ہے، اور ان کی توجہ اس عمل میں جینز (genes) کے کردار پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے کہا، کہ صرف ایک جین کی تبدیلی (mutation) سے دانتوں کی تعداد بدل گئی تھی۔ اگر ہم اسے اپنی تحقیق کا محور بنا لیں، تو (انسانوں میں) دانتوں کی تعداد کو تبدیل کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور نکلے گا۔

 

محققین نے دریافت کیا کہ USAG-1 پروٹین چوہوں میں دانتوں کی نشوونما کو روک سکتی ہے، اس لیے اس پروٹین کو بننے سے روک کر ممکنہ طور پر دوبارہ دانت اگائے جا سکتے ہیں۔ ٹیم نے اس پروٹین کو بلاک کرنے والی ایک دوا تیار کی اور چوہوں میں نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔

 

Regenerative Therapy میں 2023 کے ایک مقالے میں دانتوں کو دوبارہ اگانے کے لیے دستیاب علاج کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا گیا، لیکن اس بات پر زور دیا گیا کہ چوہوں پر کیا گیا اینٹی USAG-1 اینٹی باڈی علاج انسانوں میں دانتوں کی خرابیوں (anomalies) کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

 

جاپانی محقق کاتسو تاکاہاشی کے مطابق، چوہوں پر کیے گئے تجربات کے بعد اب انسانوں میں بھی دوبارہ دانت اگانے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ انسانوں کے اندر دانتوں کا تیسرا سیٹ اگانے کی بنیاد پہلے سے موجود ہے، جس کی زندہ مثال وہ افراد ہیں جوہائپرڈونٹیا (hyperdontia) کا شکار ہوتے ہیں اور جن کے منہ میں ضرورت سے زائد دانت نکل آتے ہیں۔

 

جینز میں مناسب تبدیلی کے ذریعے ان چھپے ہوئےٹوتھ بڈز(tooth buds) کو متحرک کر کے دانتوں کو دوبارہ اگایا جا سکتا ہے۔ اگر کلینیکل ٹرائلز کامیاب رہے تو 2030 تک یہ ٹیکنالوجی عام استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔