مراکش میں ،ماہ رمضان کے لیے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے
مراکش میں ،ماہ رمضان کے لیے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کردی گئیں۔مراکشی حکومت روزہ رکھنے میں آسانی کے لیے گرینچ ٹائم پر واپس آنے کا فیصلہ کرتی ہے، عوام اس اقدام کو سال بھر کھوئے ہوئے حیاتیاتی توازن کی بحالی کا موقع سمجھتے ہیں۔
یوں یہ انتظام فیصلہ ایک عوامی جشن جیسا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔فیس بک اور ایکس (ٹوئٹر) جیسے پلیٹ فارمز پر نفسیاتی اور جسمانی سکون کے اجتماعی احساس پر بحث چھڑ جاتی ہے اور بعض لوگ اس لمحے کو سماجی عرس قرار دیتے ہیں۔
مراکشی اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کام یا اسکول قدرتی روشنی کے ساتھ جا سکتے ہیں، اس اندھیرے میں جاگنے کی فوبیا سے دور، جو گرمیوں کے اوقات ان پر مسلط کرتے ہیں اور جسے وہ اپنے قدرتی اور جغرافیائی نظام سے غیر ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ رمضان ہی وہ واحد مہینہ ہے جب انہیں فطرت کے مطابق جینے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے نزدیک کم شدہ گھڑی محض وقت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی سہولت ہے ،جو طلبہ اور مزدوروں کو سرد اور تاریک صبحوں کی مشقت سے نجات دیتی ہے، انہیں بہتر نیند اور قدرتی انداز میں جاگنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مراکش رمضان کے پورے مہینے میں GMT (گرین وچ مین ٹائم) پر ہی رہے گا، جس کے بعد اتوار 22 مارچ کو صبح 2 بجے گھڑیاں دوبارہ ایک گھنٹہ آگے کر کے GMT+1 پر کر دی جائیں گی۔ تب تک، ملک بھر میں روزمرہ کے معمولات کام کے اوقات سے لے کر اسکولوں تک اس وقت کے مطابق ڈھل جائیں گے جسے بہت سے مراکشی باشندے روزے کے مہینے کے دوران زیادہ فطری اور پرسکون قرار دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کاکہناہے کہ وقت کی کسی بھی تبدیلی، چاہے گرمیوں کے اوقات میں جانا ہو یا سال میں دو بار سردیوں کے اوقات پر واپس آنا، نیند، روزمرہ توانائی اور مزاج پر واضح اثر ڈالتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جسم کو نئے نظام سے ہم آہنگ ہونے میں کئی دن یا ہفتے لگتے ہیں، جس سے تھکن بڑھتی ہے اور توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچوں، نوعمروں، بزرگوں اور رات کی شفٹ میں کام کرنے والوں پر وقت کی تبدیلی کے منفی اثرات زیادہ پڑتے ہیں، کیونکہ نیند کی کمی اور مزاج کی خرابی ان کے لیے روزمرہ خطرات، حتیٰ کہ حادثات اور دائمی تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ،رمضان میں عارضی طور پر سردیوں کے وقت پر واپسی کے باعث بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جسم اپنا قدرتی ردھم دوبارہ پا لیتا ہے، جس کے مثبت اثرات مزاج اور ذہنی صحت پر پڑتے ہیں اور کئی ماہ تک گرمیوں کے وقت سے مطابقت کے بعد سکون اور اطمینان کا احساس ملتا ہے۔