پاکستان ایئر فورس کے طیارے کی پرواز سے بھارت میں سنسنی پھیل گئی
پاک فضائیہ کے طیارے کی بھارتی فضائی حدودمیں پروازسے بھارت کے اندرسنسنی پھیل گئی۔
فلائٹ ریڈار 24 (Flightradar24) کے مطابق لاہور سے سری لنکا جانے والے پاکستان ایئر فورس کے گلف اسٹریم G450 طیارے نے بھارتی زیرِ انتظام فضائی حدود کا استعمال کیا۔ یہ پرواز سوشل میڈیا اور دفاعی فورمز پر بحث کا موضوع بن گئی۔
اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) تجزیہ کار نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے پاکستانی طیاروں پر اپنی خود مختار فضائی حدودمیں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، لیکن اس پرواز نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ یہ طیارہ بھارتی ساحل سے 12 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی فضائی حدودمیں رہا، جہاں انتظام تو بھارت کے پاس ہے لیکن وہ اس کی اپنی ملکی حدود نہیں کہلاتی۔
پاکستانی طیارہ 14 فروری کو تقریباً دوپہر1بج کر 27 منٹ پرلاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہواتھا۔پانچ گھنٹے پر محیط اس پرواز نے بھارت کی مغربی اور جنوبی ساحلی سرحدوں کے قریب سے سفر کیا۔طیارے نے ممبئی اور چنئی کے فلائٹ انفارمیشن ریجنزمیں پروازکی ۔ان زونز میںبھارت فضائی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے، لیکن وہ اس کی ملکی حدود میں شامل نہیں ہوتے۔
یہ طیارہ اہم شخصیات کی نقل و حمل، کمانڈ اینڈ کنٹرول رابطہ کاری، اور اسٹریٹجک نقل و حرکت جیسے کثیر المقاصد مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ابتدائی طورپر بھارت میں اس پرواز کو ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا۔ کئی تبصرہ نگاروں نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک پاکستانی طیارہ کلیئرنس کے بغیر بھارتی ایئر ڈیفنس آئیڈینٹی فیکیشن زون (ADIZ) میں کیسے داخل ہو سکتا ہے۔ یہ ردعمل دراصل ADIZ کے قواعد اور ملکی سرحدی حدود کے درمیان فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے سامنے آیا۔
دفاعی ذریعے کی وضاحت نے اس بحث کا رخ قانونی باریکیوں کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ بین الاقوامی قانون (UNCLOS) کے تحت ملکی حدود صرف ساحل سے 12 ناٹیکل میل تک ہوتی ہیں اور اس سے آگے بین الاقوامی پروازوں کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
تزویراتی نکتہ نظر سے، یہ پرواز پابندیوں کے باوجود بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے پراعتماد طریقے سے کام کرنے کی اسلام آباد کی صلاحیت ظاہر کرتی ہے کہ۔