”تریمت کتھا ”پانچ زبانوں کی خواتین افسانہ نگاروں کا تقابلی جائزہ
ادارہ فروغ قومی زبان کے زیراہتمام ڈاکٹر سعدیہ کمال کی کتاب”تریمت کتھا”کی تقریب رونمائی و پذیرائی اسلام آباد میں ہوئی جس کی صدارت پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر ڈاکٹر فرحت اللہ بابر نے کی۔ نظامت کے فرائض منیر فیاض نے ادا کئے۔ تقریب کے شرکا نے کتاب کو نسائی ادب، تہذیبوں کے ملاپ، مادری زبانوں کی اہمیت اور مزاحمتی ادب کی ترویج کا خزانہ قرار دیا۔
افتتاحی کلمات میں ادارہ فروغ قومی زبان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید کا کہنا تھا کہ صحافت و ادب کا رشتہ بہت گہرا ہے، ڈاکٹر سعدیہ کمال نے ”تریمت کتھا”کی صورت میں اس رشتے کو پھر سے جوڑ کر اور مضبوط کردیا ہے۔ صاحب صدر مرکزی رہنما پیپلزپارٹی و سابق سینیٹر ڈاکٹر فرحت اللہ بابر نے کتاب کو فیڈریشن کا ایک گلدستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پدر سری معاشرے میں ڈاکٹر سعدیہ کمال کا بیک وقت ایک صحافی، علم دوست، ادیب و مصنفہ ہونا ایک منفرد خوبی ہے کیونکہ اتنا کٹھن سفر طے کرنا بذات خود کسی جدوجہد سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنفہ کی نظر کی خوبصورتی ان کے تمام افسانوں میں ھی جھلکتی ہے جو اس ملک کی تمام اکائیوں کوں ایک فیڈریشن کی شکل میں پیش کرتی ہے، یہ کتاب ایک مجسم عورت ہے جو مختلف زبانوں کی خواتین کے سماجی ومعاشرتی مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔
صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے”تریمت کتھا”میں دو بنیادی زاویے سے بہت ہی اچھا کام کیا، ایک مرد اور عورت کی تقسیم، دوسرا کمزور اور طاقتور کرداروں کو اجاگر کرتی ہے،”تریمت کتھا”میں پانچ زبانوں کی خواتین افسانہ نگاروں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا، یہ حاشیہ کی زبانیں معاشرے کی مرکزی زبانیں ہیں جو طاقتور اور کمزور کے درمیان کھلا اظہار ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان سلیم مظہر کے مطابق تریمت کتھا بہت بڑی اہمیت کا موضوع ہے جو ادبی حلقوں کیلئے کئی نئے در کھولتا ہے۔ سینئر صحافی مظہر عارف نے کہا کہ احمد پور جیسے پسماندہ علاقے سے شہر اقتدار اسلام آباد آکر صحافت کے بعد ادب کے میدان میں کامیابیاں سمیٹنے پر میں داکٹر سعدیہ کمال کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے کہا کہ”تریمت کتھا”نسائی ادب پر کئی کتابیں پڑھنے کا درس دیتی ہے، یہ کتاب ایک صندوق کی کنجی ہے جو ادب کے خزانے سے لبریز ہے۔
بلوچی زبان وادب کے معروف محقق و دانشور پناہ بلوچ نے کہا کہ نسائی ادب پر”تریمت کتھا”مزاحمتی حوالے سے اہم کتاب ہے، جو خواتین کی ادبی خدمات کی رجسٹریشن ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد شعبہ بلوچی زبان کے ڈاکٹر ضیا بلوچ نے”تریمت کتھا”کو اس خطے کی تہذیبوں کا ملاپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے قومی زبانوں بالخصوص نسائی ادب پر بہت بڑا کام کر دکھایا ہے۔ نمل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر صنوبر الطاف نے کہا کہ تریمت کتھا کے ذریعے جہاں خواتین کے دکھ، درد اور مشکلات کا احاطہ کیاگیاہے، وہیں اس خطے کی مادری زبانوں کو لائم لائٹ میں لا کر واقعی کمال کر دکھایا ہے۔
ممتاز دانشور ڈاکٹر ڈاکٹر روش ندیم نے کہا کہ”تریمت کتھا”انتہائی اہم کتاب ہے جو مباحثے کی دعوت دیتی ہے اور ایک سماجی شناخت ہے جو قومی ادب کو مین اسٹریم میں لانے کی شاندار کاوش ہے۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ تریمت کتھا کی بلوچستان میں”مہردر” جیسے ادارے سے اشاعت ہمارے لئے باعث افتخار ہے۔
مصنفہ نے تقریب کے انعقاد پر ادارہ فروغ قومی زبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کیلئے تعاون اور رہنمائی پر میں پناہ بلوچ، ڈاکٹر منظور ویسریو، ڈاکٹر واجد تبسم ، مہردر کے ڈاکٹر عابد میر، خورشید انجم اور ادی نینا (نسرین گل)کی تہہ دل سے مشکور ہوں، جنھوں نے میرے اس کٹھن سفر میں بھر پور ساتھ دیا۔ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کہا کہ اپنی تحقیق کے ذریعے ظالم اور مظلوم کے فرق کی گرہیں کھولنے کی سعی کی، دس سالہ تحقیقی سفر میں کئی تجربات سے گزری اور سرخرو ہوئی۔
تقریب میں شاعرہ و ادیبہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، دانشور وادیبہ نعیم فاطمہ علوی، معروف دانشور و ادیبہ کلثوم زیب، معروف سرائیکی شاعر جہانگیر مخلص، سبطین رضا لودھی، فریدہ حفیظ، افشاں کیانی، مسعود حنیف، محمد عسکری نقوی، شمیم اشرف، غلام یاسین بھٹی سمیت دیگر اہم ادبی و علمی شخصیات اور معززین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔