6سال پرانے”پراسرار”چینی ایٹمی تجربے پر امریکی بے چینی ۔ شواہد کیا کہتے ہیں؟

February 18, 2026 · امت خاص

 

 

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہاہے کہ روس اور چین میں سے کسی نے بھی کوئی ایٹمی تجربہ نہیں کیا ۔رواں ماہ کے آغاز میں، امریکہ نے بیجنگ پر 2020میں ایک خفیہ ایٹمی تجربہ کرنے کا الزام عائدکرتے ہوئے ایک نئے، وسیع تر اسلحہ کنٹرول معاہدے کا مطالبہ کیا تھا جس میں چین اور روس دونوں کو شامل کیا جائے۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے پیسکوف کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ہم نے مخصوص تجربات کے حوالے سے کئی تذکرے سنے ہیں۔ اس سلسلے میں روسی فیڈریشن اور چین دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ نہ تو روسی فیڈریشن نے اور نہ چین نے کوئی ایٹمی تجربہ کیا ہے۔پیسکوف نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چینی نمائندوں نے بھی ان الزامات کی دو ٹوک الفاظ میں تردید کی ہے۔

گزشتہ ہفتے، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس حقائق نہیں ۔بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لن جیان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایٹمی بالادستی حاصل کرنے کے لیے اپنی سیاسی جوڑ توڑ کے حصے کے طور پر چین کی ایٹمی پالیسی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اسے بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے حال ہی میں نئی تفصیلات ظاہر کیں، جن کے مطابق چین نے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران زیرِ زمین جوہری تجربہ کیا تھا۔
اس معاملے پر سوال پیداہوتاہے کہ 6سال کاطویل عرصہ گذرنے کے بعد یہ معاملہ کیوں اہمیت اختیار کرگیاہے؟کیا چین کا مذکورہ تجربہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر معمولی تھا جس میں امریکہ ابھی پیچھے ہے؟

امریکی وزارتِ خارجہ کے اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلائو کے سربراہ کرسٹوفر ییو نے واشنگٹن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں ایک سیمینار کے دوران کہاکہ ہم برتری کے معاملے میں کسی ناقابلِ قبول پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔انہوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اپنی جوہری آزمائشوں کے بارے میں واضح طور پر انکشاف کرے، کیونکہ بعض امریکی حکام اور ماہرین کے مطابق یہ تجربات چین کی ان کوششوں کا حصہ ہیں ،جن کے ذریعے وہ جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں واشنگٹن کے برابر آنے یا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جس واقعے کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ 22 جون 2020کو پیش آیا تھا، جو مغربی چین کے سنکیانگ علاقے میں واقع ایک خفیہ تنصیب”لوب نور”کے قریب ہوا۔ییو نے مزید بتایا کہ واشنگٹن نے ہمسایہ ملک قزاخستان میں موجود ایک تنصیب سے حاصل زلزلہ جاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چین نے ایک دھماکہ خیز جوہری تجربہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سرگرمی کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2 اعشاریہ 76ریکارڈ کی گئی، جو نہ تو قدرتی زلزلوں کی خصوصیات سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ کان کنی میں استعمال ہونے والے دھماکوں سے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مشتبہ دھماکے کی اصل طاقت یعنی خارج ہونے والی توانائی کی مقدار اب تک واضح نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے بقول چینی حکومت نے آزمائش کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ایسے تجربات کی تیاری کر رہے تھے جن کی دھماکہ خیز طاقت سینکڑوں ٹن توانائی کے برابر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف زلزلہ جاتی اعداد و شمار 2020میں ہونے والے دھماکے کے حجم کا درست تعین کرنے کے لیے کافی نہیں ۔

قزاخستان کا مذکورہ سیسمک اسٹیشن اس عالمی نگرانی کے نظام کا حصہ ہے جسے ‘جامع جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے کی تنظیم’ (CTBTO)چلاتی ہے۔
تنظیم کے ایگزیکٹو سیکرٹری، رابرٹ فلائیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ PS23اسٹیشن نے 22جون 2020کو 12سیکنڈ کے وقفے سے دو انتہائی معمولی سیسمک سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سی ٹی بی ٹی اوکا مانیٹرنگ سسٹم صرف ان واقعات کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو 551ٹن (500 میٹرک ٹن)TNTیا اس سے زیادہ طاقت کے ایٹمی دھماکوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔فلائیڈ کے مطابق، یہ دونوں سرگرمیاں اس سطح سے بہت نیچے تھیں۔ اس کے نتیجے میں، محض اس ڈیٹا کی بنیاد پر، ان واقعات کی وجہ کا اعتماد کے ساتھ تعین کرنا ممکن نہیں ۔دوسری طرف، امریکی عہدیدار کرسٹوفر یو کا کہنا ہے کہ چین نے اس تجربے کو چھپانے کے لیے ‘ڈی کپلنگ’ (decoupling)نامی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس طریقے میں ایٹمی آلے کو زمین کے اندر ایک بڑے غار یا چیمبر میں دھماکے سے اڑایا جاتا ہے تاکہ ارد گرد کی چٹانوں میں پیدا ہونے والی لہروں (shockwaves)کی شدت کو کم کیا جا سکے۔

امریکی حکام کو شواہد کی بنیادپر یقین ہے کہ دھماکہ کم از کم انتہائی حساس نوعیت کا تھا، یعنی ایسا تجربہ جس میں محدود مقدار میں جوہری مواد استعمال کیا جاتا ہے مگر مکمل سلسلہ وار جوہری ردِعمل پیدا نہیں ہوتا۔اخبار” واشنگٹن پوسٹ ”کے مطابق یہ بیانات بظاہر اس شبہے کو دور کرنے کے لیے دیے گئے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں فروری کے اوائل میں دعوی ٰکیا تھا کہ چین نے تقریبا چھ برس قبل خفیہ جوہری تجربہ کیا تھا۔آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زلزلہ جاتی معلومات کو سیٹلائٹ ڈیٹا کے ساتھ بھی ملا لیا جائے تو بھی ممکن ہے کہ نتیجہ حتمی نہ ہو۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے واشنگٹن پر ایٹمی مسائل کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا ہے اور اس بات کو دہرایا ہے کہ بیجنگ ایٹمی تجربات پر خود ساختہ پابندی (moratorium)پر سختی سے قائم ہے۔

امریکی ٹی وی فوکس نیوز کے مطابق ان الزامات نے ایٹمی ہتھیاروں کی تصدیق، ڈیٹرنس ( مدمقابل کا خوف)اور امریکی اسٹاک پائل پروگرام کی افادیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی مقابلے کے اس نئے دور میں صرف کمپیوٹر سمیلیشنز(مصنوعی ماڈلز)پر انحصار کرنا کافی ہے یا نہیں۔