غیرقانونی اقدامات پر گل پلازہ کوصرف 2 نوٹس دیئے گئے۔میزنائن فلور نقشے میں نہیں تھا۔ تحقیقاتی کمیشن میں بیانات

February 19, 2026 · امت خاص

 

سانحہ گل پلازہ کے عدالتی کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی ۔ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل ہالے پوٹو نے،ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن اجلاس کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ہمارے نقشے کے مطابق گل پلازہ میں کوئی میز نائن فلور نہیں تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار ایک میں ایمنسٹی اسکیم کے ختم ہونے سے تین دن پہلے 30 نومبر کو گل پلازہ کو ریگولائز کرایا گیا۔

 

عدالت نے پوچھا آپ نے 2015 میں بیسمنٹ کے لیےاین او سی کیوں دیا تاکہ وہ بیچ سکیں ؟ ڈی جی کا جواب تھا کہ ہم نے اس لیے دیا کیونکہ وہاں پہلے ہی بہت کچھ غلط ہو چکا تھا اس لیے اب وہ درستی کرنا چاہتے تھے لہذا انھیں موقع دیا گیا ۔ بیسمنٹ کے علاوہ ہم نے کسی فلور کی اجازت نہیں دی تھی۔عدالت کے پوچھنے پر ڈی جی نے بتایا کہ وہ کسی بھی عمارت کے مکمل ہونے سے پہلے وہاں جا کر جائزہ نہیں لیتے یہ پریکٹس میں نہیں۔

 

مزمل ہالےپوٹو نے بتایا کہ جب ایک بلڈر بلڈنگ مکمل کر لیتا ہے،تو ہم ایک بار انسپیکشن کرنے کے بعد دوبارہ وہاں جا کر نہیں دیکھتے جب تک کوئی شکایت نہیں کرتا ،یہ ہماری پریکٹس ہے۔عدالت نے پوچھا کہ آپ نے آج تک غیر قانونی اقدامات پر گل پلازہ کی انتظامیہ کوکتنے نوٹس دیئے تھے ، جس پر جواب تھا کہ شائد ایک دو بار ،جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ۔

۔
ڈی جی ایس بی سی نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے موقف اختیار کیا کہ جب تک کوئی ہمیں شکایت نہ کرے ہم عمارتوں کو جا کر مکمل ہونے کے بعد چیک نہیں کرتے ۔ جس پر عدالت نے پوچھا کیا ایک سانحہ کافی نہیں آپ کے جاگنے کے لیے ؟۔ آپ تب ہی جائیں گے جب کوئی شکایت کرے ؟ ۔اس کے جواب میں ڈی جی ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ ہم فائنل انسپیکشن کے بعد دوبارہ نہیں جاتے کیونکہ قانون ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔

 

اس موقع پر ڈی جی ایس بی سی اے نے یہ عذر اختیار کیا کہ1381 ملازمین کے ساتھ میں کراچی سے کشمور تک بلڈنگ کا معائنہ پانچ سال تک بھی مکمل نہیں کر سکتا۔
اس پرعدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا آپ ایک عمارت کا وزٹ کر لیں سو خود ٹھیک ہو جائیں گی ۔

 

گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستہ کو بھی بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا گیا ۔تنویر پاستہ نے کمیشن کو بتایا کہ گل پلازہ کے کل 16 دروازے تھے اور عام دنوں میں ساڑھےدس بجے گیٹ بند کرنے کا عمل شروع ہوتا تھا جو 20 سے 25 منٹ میں مکمل ہو جاتا اور آخر میں گیٹ نمبر 16 بند کیا جاتا تھا جو ریمپ کے راستے پر واقع ہے۔تنویر پاستہ کے مطابق ہفتے کے روز گیٹ بند کرنے کا عمل پونےگیارہ بجے شروع ہوتا تھا جو ساڑھےگیارہ بجے ریمپ کا گیٹ بند کرنے کے ساتھ مکمل ہوتا تھا۔واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ ہفتے کے روز پیش آیا تھا۔

 

تنویر پاستہ کے مطابق آگ لگنے کے بعد گل پلازہ میں موجود 95 فیصد لوگ نکل گئے تھے کوئی بھی شخص تین سے چار منٹ میں پلازہ سے نکل سکتا تھا۔تنویر پاستہ نے بتایا کہ مجھے 10 بج کر دس منٹ پر شہزاد نامی شخص نے کال کی اور میں دو منٹ میں موقع پر پہنچ گیا۔ہم نے ان بچوں کو بھی نکالا جن کی وجہ سے اگ لگی۔ شہزاد نامی شخص بھی بچ گیا ۔انہوں نے بتایا کہ میں 1999 سے گل پلازہ میں ہوں مجھے گل محمد خانانی نے لیز پر دکان دی تھی۔میں 2024 میں پلازہ کا صدر بنا اس سے پہلے میں بلڈر رفیق بھائی کے ساتھ آر جے مال میں تھا۔گل پلازہ میں ہمارا کام صرف چوکیداری کرنا اور ماہانہ 1500 روپے لینا تھا دکانیں بروکر خود کرائے پر لگاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ 2003 میں میز نائن فلور ریگولرائز کرایا گیا۔ درحقیقت میز نائن فلور نقشے میں شامل نہیں تھا۔

 

تنویر پاستہ نے کمیشن کو مزید بتایا کہ13۔2012 میں گل پلازہ کا ایک اور فلور بنانے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو درخواست دی گئی تاہم اس کی اجازت نہیں ملی اور بتایا گیا کہ آپ کے پاس صرف 1600 مربع گز جگہ تعمیرات کے لیے باقی بچی ہے۔آپ فلور تعمیر نہیں کر سکتے۔کمیشن کے استفسار پر یونین صدر کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں دکانوں کی کرائے داری اور خرید و فروخت کا کام چار سے چھ ڈیلر کرتے تھے اور انہی کے پاس دکانداروں کا ایگریمنٹ ہوتا تھا اگر کوئی دکاندار وقت سے پہلے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کرتا تو ہم سے شکایت کی جاتی تھی لیکن ہمارا جواب یہ ہوتا تھا کہ ہمیں ایگریمنٹ کی کاپی فراہم کی جائے یا ایگریمنٹ ہمارے ذریعے کیا جائے۔