پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے گا، تاہم کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم امریکا کے دورے پر نیویارک میں موجود ہیں جہاں وہ غزہ سے متعلق ایک اہم امن اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں اور انہوں نے فلسطین کے مستقل مندوب اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے حالیہ دورہ آسٹریا کے دوران آسٹرین قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس موقع پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی توجہ صرف غزہ میں امن کے قیام اور انسانی صورتحال کی بہتری پر مرکوز ہے۔ پاکستان کسی مخصوص گروہ یا تنظیم کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔
بریفنگ میں دیگر امور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ مختلف مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے سے متعلق متنازع قانون سازی کی مذمت کی ہے۔ بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری سے متعلق رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ علاقائی سکیورٹی معاملات پر کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا گیا۔