گرین شرٹس کیلیے سپر ایٹ میں غلطی کی گنجائش ختم!
میگزین رپورٹ :
پاکستانی ٹیم کیلئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ’’سپر ایٹ‘‘ مرحلے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ ’’سپر ایٹ‘‘ کے فارمیٹ کے مطابق ہر ٹیم کو صرف تین میچزملیں گے۔ اس میں گروپ ٹو کی چاروں ٹیمیں اتنی مضبوط ہیں کہ ایک بھی میچ ہارنے کا مطلب ٹورنامنٹ سے باہرہونا ہوسکتا ہے۔
نیوزی لینڈ، سری لنکا اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کی موجودگی میں گرین شرٹس کیلئے یہ ’’گروپ آف ڈیتھ‘‘ کی صورت اختیارکرگیا ہے۔ اس گروپ سے صرف دو ٹیمیں ہی سیمی فائنل تک جا پائیں گی۔ پاکستان اپنی مخصوص سیڈنگ کے تحت گروپ 2 میں شامل ہے، جہاں اسے نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور میزبان سری لنکا جیسی طاقتور ٹیموں سے کھٹن مقابلے کا سامنا ہے۔
اس مرحلے کا آغاز 21 فروری کو کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلے سے ہوگا۔ اس کے فوراً بعد گرین شرٹس کینڈی کے پالیکیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم کا رخ کریں گے، جہاں 24 فروری کو ان کا سامنا جارح مزاج انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ گروپ مرحلے کا آخری اور فیصلہ کن معرکہ 28 فروری کو اسی میدان پر میزبان سری لنکا کے خلاف کھیلا جائے گا۔
پاکستان کا حالیہ ریکارڈ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ سری لنکا کی اپنی ٹیم ان پچز پر بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے، جبکہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے حالیہ برسوں میں ایشیائی کنڈیشنز میں اپنی کارکردگی کوبہت بہتر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے ان تینوں بڑی ٹیموں میں سے کم از کم دو کو شکست دینا لازمی ہوگی۔
دوسری طرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان تینوں ٹیموں سے پاکستان سے مقابلے کا تقابلی جائزہ لیا جائے توپاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اب تک کل 48 ٹی 20 میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ ان مقابلوں میں پاکستان نے 23 میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ نیوزی لینڈ 21 میچز جیت سکا ہے اور 4 میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔ حالیہ ترین مقابلوں میں جنوری 2025ء کے دوران نیوزی لینڈ نے اپنی ہوم کنڈیشنز میں پاکستان کو مسلسل چار میچوں میں شکست دی تھی۔
انگلینڈ کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ کافی مشکل رہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 31 میچز ہوئے ہیں جن میں سے انگلینڈ نے 20 میچز جیتے ہیں اور پاکستان صرف 9 میچز میں فاتح رہا ہے۔ خاص طور پر مئی 2024ء کی سیریز میں انگلینڈ نے پاکستان کو برمنگھم اور اوول کے میدانوں پر شکست دی تھی۔ سری لنکا کے خلاف پاکستان کا تاریخی ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 28 میچوں میں سے پاکستان 16 میچز جیتنے میں کامیاب رہا جبکہ سری لنکا نے 12 میچز جیتے ہیں۔ دوسری جانب گروپ ون اب ایک نئے اور دلچسپ رخ اختیار کر چکا ہے جہاں بھارت، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ اب زمبابوے کی ٹیم بھی شامل ہے۔ آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے باہر ہونے کے بعد زمبابوے کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اس مرحلے میں مزید اپ سیٹ کرے۔
جبکہ بھارت اور جنوبی افریقہ کو اب سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ویسٹ انڈیز کی جارحیت اور زمبابوے کے غیر متوقع کھیل کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس گروپ کے تمام مقابلے بھارت کے میدانوں پر منعقد ہوں گے، جہاں ہوم کنڈیشنز کی وجہ سے بھارت کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن زمبابوے کی شمولیت نے اس گروپ کی دوڑ کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے نیمیبیا کو شکست دیکر سپر ایٹ کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے۔ اس میچ میں صاحبزادہ فرحان کی دھواں دھار سنچری سب سے نمایاں رہی جس سے ٹیم کو اگلے رائونڈ میں رسائی مل سکی۔