سفارت کاری کی ممکنہ ناکامی پرایران کے خلاف طویل اورہمہ گیر جنگ کا آپشن

February 19, 2026 · امت خاص

 

 

اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب چند دنوں میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑنے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ صورت حال خطے میں امریکی فوجی کمک اور واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی میں بے تحاشا اضافے کی نشان دہی کرتی ہے۔

 

اسرائیلی اور امریکی حکام نے ایکسیوس کو بتایا کہ جاری تیاریاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ سفارتی راستہ ناکام ہو سکتا ہے، جو ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا دروازہ کھول سکتا ہے، اس کے بارے میں غالب امکان ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہوگی۔

 

ذرائع کے مطابق کوئی بھی امریکی فوجی اقدام محض ایک محدود ضرب نہیں ہو گا، بلکہ یہ ایک ایسی مہم ہوگی جو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور اپنی نوعیت میں ایک ہمہ گیر جنگ کے قریب ہوگی۔ اس میں ایران کے جوہری اور میزائل ڈھانچے کے علاوہ ممکنہ طور پر نظام سے وابستہ سکیورٹی اداروں کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب واشنگٹن کے اندر سے سامنے آنے والے کچھ اندازے اشارہ کرتے ہیں کہ فیصلہ ابھی حتمی طور پر نہیں ہوا اور امریکی انتظامیہ کو مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔

 

ادھر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ ممکنہ حملے اب سے چند ہفتوں کے فاصلے پر ہو سکتے ہیں، دیگر کا خیال ہے کہ وقت کا یہ تخمینہ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔

 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بیک وقت دوطرفہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں مذاکرات اور فوجی کشیدگی دونوں شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ یہاں دونوں فریقوں نے مذاکرات میں پیش رفت کی بات کی، باوجود اس کے کہ امریکی حکام نے باہمی خلیج وسیع ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

 

اس سے پہلے امریکی نائب صدر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کچھ سرخ لکیریںمقرر کی ہیں جنہیں تسلیم کرنے یا ان سے نمٹنے سے تہران اب بھی انکاری ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کے باوجود، یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو سفارت کاری اپنی فطری انتہاکو پہنچ چکی ہے۔

 

ایران نے کہا ہے کہ اصولی طور پر ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے، لیکن دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران واشنگٹن کے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا آپشن اب بھی موجود ہے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا تھاکہ تہران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے حکومت کے خلاف حملے دوبارہ شروع کیے تو اسے اتنا سخت نشانہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہ دوبارہ کھڑا نہ ہو سکے۔

 

الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ نئی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے حال ہی میں ایک حساس فوجی مقام پر ایک نئی تنصیب کے اوپر ایک کنکریٹ شیلڈ بنائی ہے اور اسے مٹی میں ڈھانپ دیا ہے، امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنائو اور علاقائی جنگ کے خطرات میں 2025 کی اسرائیلی بمباری کے مقام پر کام کو آگے بڑھا رہا ہے۔تصاویر یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے پچھلے سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران واشنگٹن کی طرف سے بھی بمباری کا نشانہ بنائی گئی ایٹمی سائٹ پر سرنگ کے داخلی راستوں کو چھپا دیا ہے ،اور داخلی راستوں کو مضبوط کیا ہے۔ ایرانی فوج نے متاثرہ میزائل اڈوں کی مرمت بھی کر دی ہے۔

 

ذرائع نے خبردار کیا کہ ٹرمپ نے نجی طور پر فوجی کارروائی کے حق اور مخالفت دونوں میں  دلائل دیے ہیں اور بہترین راستہ اختیار کرنے کے بارے میں مشیروں اور اتحادیوں سے رائے لی ہے۔

 

بدھ کو مذاکرات کا دور 6فروری کو پہلے دور کے بعد ہوا ،جسے امریکی اور ایرانی دونوں فریقوں نے مثبت قرار دیا تھا، توقع ہے کہ تیسرا دور چند ہفتوں میں منعقد ہوگا۔تاہم امریکی فوج کو خطے میں صف بندی مکمل کرنے کے لیے بھی اتناہی وقت دیاگیاہے۔