ڈھاکہ میں مجھے یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ سانس لے رہی ہو۔ احسن اقبال

February 20, 2026 · قومی

 

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈھاکہ میں مجھے تاریخ سانس لیتی ہوئی محسوس ہوئی۔

بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان کی حلف برداری میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کے لیے دورے پر سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہاں ہم نے صرف علامہ اقبال کے کلام کے چالیس بنگالی تراجم آن لائن جاری نہیں کیے، بلکہ وقت، سرحدوں اور دلوں کے درمیان ایک مکالمہ دوبارہ زندہ کیا ہے۔ اقبال کبھی ایک جغرافیے تک محدود نہیں تھے؛ وہ مشرق کے شاعر تھے ،ایک ایسی روشنی جو پورے برصغیر کے لیے تھی۔

 

احسن اقبال نے سوشل میڈیا بیان میں مزید کہا کہ اقبال نے ہمیں خودی کا درس دیا ،اپنی پہچان، اپنی طاقت اور اپنے امکان پر یقین کا سبق۔ آج جب دنیا ہمیں تقسیم کرنے کی بات کرتی ہے، ان کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی روح ہمیشہ مشترک رہی ہے ، شاعری، جدوجہد اور امید کے رشتوں سے جڑی ہوئی۔

 

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ان ( علامہ اقبال )کے افکار کا بنگالی زبان میں ڈھل جانا میرے لیے ایک ثقافتی پل کی مضبوطی ہے ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان نہیں بلکہ ماضی اور مستقبل کے درمیان۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ فکری وراثت سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ وہ دلوں کی امانت ہوتی ہے۔

 

اقبال کی ڈیڑھ سوویں سالگرہ کو مشترکہ طور پر منانے کا تصور میرے دل میں ایک نئی امید جگاتا ہے۔ میں ایک ایسے احیاء کا خواب دیکھتا ہوں ، فکر کا احیاء، خود اعتمادی کا احیاء، اور اداروں جیسے اقبال اکیڈمی کی بحالی جو دوبارہ بیداری اور مکالمے کا مرکز بن سکیں۔

 

پروفیسر احسن اقبال نے بیان کے آخر میں دورہء ء بنگلہ دیش کے مجموعی تاثر کو بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج ڈھاکہ میں میں نے دو قومیں نہیں دیکھیں؛ میں نے ایک مشترکہ ورثہ دیکھا۔ ایک شاعر۔ ایک پیغام:اٹھو، خود کو پہچانو، اور اپنے مقدر کو سنوارو۔اور میرا دل امید سے بھر گیا۔

 

دورہء بنگلہ دیش کے دوران احسن اقبال نے وزیر اعظم طارق رحمان کی حلف برداری میں شرکت کے علاوہ عبوری سربراہ محمد یونس کے ساتھ ملاقات کی، اور سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کی قبر پر حاضری بھی دی، جو نو منتخب وزیر اعظم کی والدہ تھیں۔