آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی کارکردگی پر اظہار اطمینان
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، مالیاتی کارکردگی بہتر ہوئی اور 14 برس بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا۔
واشنگٹن میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے پاکستان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ فنڈ کے تحت جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت پاکستان کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں ای ایف ایف کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات میں معاشی اہداف، مالی نظم و ضبط اور اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
جولی کوزیک کے مطابق ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں سے معیشت کو استحکام ملا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی ہے اور مالی سال 2025 میں پاکستان نے مجموعی قومی پیداوار کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو پروگرام اہداف کے مطابق ہے۔
آئی ایم ایف عہدیدار کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح نسبتاً قابو میں رہی جبکہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو بیرونی شعبے میں بہتری کی علامت ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق تشخیصی رپورٹ شائع کی گئی ہے، جس میں ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانے، سرکاری خریداری کے نظام میں برابری پیدا کرنے اور اثاثہ جات کے گوشواروں میں شفافیت بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق ان اصلاحات سے طویل مدتی معاشی استحکام اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کو گزشتہ مالی بحران کے بعد آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد مالی خسارے میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ آنے والے جائزہ مذاکرات کو پاکستان کی معاشی سمت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔