راجوڑی میں مجاہدین کے حملے سے 4 بھارتی فوجی مارے جانے کی اطلاعات
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوڑی میں کشمیری مجاہدین سے ایک جھڑپ میں 4 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور کئی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کارروائی راجوڑی کے علاقے سندربنی اور دیگر مقامات پر نامعلوم افراد کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔ بھارتی فوج نے علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن (سی اے ایس او) کا آغاز کیا ہے۔
بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پرسندربنی کے علاقے ناتھوا تِبہ میں، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہے، میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔حکام کے مطابق اس کے بعد زمینی آپریشن کے ساتھ فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ۔دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں، جس میں مبینہ طور پر ایک بھارتی فوجی افسر کو دکھایا گیا ہے، متعدد فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس ویڈیو کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔واقعے سے متعلق مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
بھارتی فوجیوں نے راجوری میں سچن کمار نامی ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے دو پستول اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ بھارتی فوج کی 54 راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے سچن کمار کو ضلع کے علاقے نوشہرہ میں مشکوک نقل وحرکت کے دوران گرفتارکیا۔وہ نوشہرہ کے علاقے سائر کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔فوجیوں نے دعویٰ کیا کہ سچن کے قبضے سے دو پستول، چار میگزین اور 15 زندہ راو ¿نڈ برآمد ہوئے۔ایک افسر نے کہا کہ گرفتار شخص کے خلاف اسلحہ ایکٹ اور بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کے تحت نوشہرہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔