افغانستان کے بجائے پاکستانی بلوچستان منشیات کا مرکز بن گیا، فرانسیسی ٹی وی
پاکستان منشیات کی ترسیل کے لیے گزرگاہ سےپیداوارکے بڑے مرکزمیں تبدیل ہوگیا ۔بلوچستان میں وسیع پیمانےپر پوست کاشت ہونے لگی۔ یہ تبدیلی 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
2022میں، افغان حکام نے اچانک پوست کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی، جو افیون اور ہیروئن کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس فیصلے سے افغانستان میںپیداوار ڈرامائی طورپرکم ہوگئی اور، کاشت سرحد پار پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منتقل ہو گئی، جو محض چند سال میں غیر قانونی پوست کی کاشت کا خطے کا ایک نیا مرکز بن چکا ہے۔
اسی دوران، افغان اسمگلنگ نیٹ ورکس نے اپنا رخ تیزی سے مصنوعی منشیات کی جانب موڑ لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، افغانستان میں تیار ہونے والی میتھ ایمفیٹامائن (آئس) اب پاکستانی مارکیٹ میں کثرت سے پہنچ رہی ہے۔
منشیات کی یہ پھیلتی ہوئی معیشت پاکستانی معاشرے کے لیے براہِ راست اور تباہ کن نتائج کا باعث بن رہی ہے، اب لاکھوں افراد نشے کی لت سے نبرد آزما ہیں۔
ماضی میں پاکستان کو منشیات کی ترسیل کے لیے محض ایک گزرگاہ (ٹرانزٹ روٹ) سمجھا جاتا تھا، اب یہ منشیات کی پیداوار اور استعمال کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔