ایف بی آر نے مزید درجن بھر کاروباروں کیلئے پوائنٹ آف سیلز لازمی قرار دے دیا، کون کون متاثر؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے درجنوں نئے کاروباری شعبوں کیلئے پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) سسٹم اور الیکٹرانک انوائسنگ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن ایس آر او 288(I)/2026 کے مطابق تمام رجسٹرڈ کاروباروں کو مقررہ مدت میں اپنا پی او ایس سسٹم ایف بی آر کے مرکزی ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنا ہوگا، بصورت دیگر جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔
کن شعبوں پر اطلاق ہوگا؟
نئے قواعد کے تحت درج ذیل شعبے لازمی طور پر سسٹم سے منسلک ہوں گے:
ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز
شادی ہالز
کلبز
انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سروسز
کورئیر اور کارگو آپریٹرز
بیوٹی پارلرز اور سلمنگ سینٹرز
ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینکس
نجی کلینکس اور ڈینٹل کلینکس
پلاسٹک سرجنز
ڈائیگناسٹک لیبارٹریاں
نجی اسپتال
ہیلتھ کلبز، جم اور سوئمنگ پولز
نوٹیفکیشن کے مطابق بڑے اور معروف کلبز بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوں گے، جن میں Karachi Gymkhana، Lahore Gymkhana اور Islamabad Polo Club شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چارٹرڈ اکاؤنٹنسی فرمز، کاسٹ و مینجمنٹ اکاؤنٹنگ فرمز اور وہ نجی تعلیمی ادارے جن کی ماہانہ فیس کم از کم ایک ہزار روپے ہے، انہیں بھی ایف بی آر کے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم سے منسلک ہونا ہوگا۔
نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
ہر فروخت پر حقیقی وقت میں قابل تصدیق الیکٹرانک رسید جاری کرنا لازم ہوگا، جس پر ایف بی آر کا منفرد انوائس نمبر اور کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ تمام لین دین کا ڈیٹا براہ راست ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا بیس کو منتقل کیا جائے گا اور کاروباروں کو کم از کم چھ سال تک یہ ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا۔
سسٹم میں خرابی یا انٹرنیٹ تعطل کی صورت میں بھی مخصوص مدت کے اندر فروخت کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنا لازم ہوگا۔ غیر منسلک سسٹمز کے ذریعے فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔
اضافی شرائط
کاروباروں کو ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی خریداری سمیت تمام اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔
ہر آؤٹ لیٹ پر ایف بی آر کا لوگو اور انضمام کی حیثیت ظاہر کرنے والا نمایاں سائن بورڈ آویزاں کرنا ہوگا۔
صرف لائسنس یافتہ کمپنیاں ہی کاروباروں کو ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک کر سکیں گی۔ لائسنس پانچ سال کیلئے مؤثر ہوگا۔
مقصد کیا ہے؟
ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام، محصولات میں اضافہ اور کاروباری لین دین میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے، “مجوزہ مسودے پر آرا اور تجاویز سات دن کے اندر جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ مقررہ مدت کے بعد موصول ہونے والی تجاویز قابل قبول نہیں ہوں گی اور ترمیم شدہ قواعد گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ کر دیے جائیں گے۔”
ایف بی آر ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے قیام کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ غیر رپورٹ شدہ فروخت کی نگرانی اور ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انوائسنگ نظام معیشت کی دستاویزی شکل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ٹیکس دہندگان اور صارفین دونوں کا اعتماد بڑھے گا۔