امریکہ کے بجائے ترکی اور پاکستان سے طیارے خریدنے کی سعودی تیاری پر واشنگٹن میں غصہ
امریکہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے نئے شراکت داروں کو شامل کرنے کی کوششوں سے ناخوش ہے۔سعودی عرب کی جانب سے ترکی کے جدید لڑاکا طیاروںکی خریداری کے لیے بات چیت نے امریکہ کو پریشان کردیا۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ سعودی عرب کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایسی کون سی ضرورت ہے جو امریکہ پوری نہیں کر رہا جس کے لیے انہیں ترکی کا رخ کرنا پڑا۔ ٹرمپ انتظامیہ میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سعودی عرب کا اپنی دفاعی خریداریوں میں تنوع لانا محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کا حامل قدم ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ، جس نے نومبر 2025 میں F-35 کی منظوری کو ایک’’تاریخی تزویراتی دفاعی معاہدے‘‘کا حصہ قرار دیا تھا، اب اس حقیقت کا سامنا کر رہی ہے کہ ریاض لاک ہیڈ مارٹن کے پانچویں نسل کے طیاروں اور ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز کے تیزی سے ترقی کرتے کان پلیٹ فارم کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب 100 تک کان طیاروں کی خریداری کا جائزہ لے رہا ہے، جو عالمی منڈی میں ایک بہت بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب کی یہ حکمت عملی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 48 امریکی طیاروں کے ابتدائی بیچ کے لیے اربوں ڈالر کے مذاکرات جاری ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے ’ویژن 2030‘ کے تحت ریاض ان طیاروں کی دیکھ بھال، اسپیئر پارٹس کے کنٹرول اور مقامی سطح پر جزوی پیداوار کے حقوق حاصل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی یہ ’دوہری حکمت عملی‘ واشنگٹن سے زیادہ ٹیکنالوجی اور صنعتی مراعات حاصل کرنے کے لیے ایک سوچا سمجھا داؤ ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ بنے رہنا چاہتی ہے۔
کان پروگرام ترکی کی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی دنیا میں دوبارہ واپسی کی علامت ہے۔ 2019 میں روس سے S-400 دفاعی نظام خریدنے کی پاداش میں امریکہ نے ترکی کو F-35 پروگرام سے نکال دیا تھا ۔ کان طیارے نے فروری 2024 میں اپنی پہلی کامیاب پرواز کی تھی، جو ترکی کی دفاعی صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔
دو انجنوں والا یہ طیارہ فضائی برتری، زمینی حملے اور الیکٹرانک وارفیئر جیسی صلاحیتوں کا حامل ہے اور اسے مغربی طیاروں کے ایک خود مختار متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ترکی کے لیے سعودی عرب کی مالی یا صنعتی شرکت اس پروگرام کی تکمیل کو تیز کر سکتی ہے اور اسے 2030 کی دہائی کے آغاز تک آپریشنل بنانے میں مدد دے گی۔
سعودی عرب کے لیے اس پروگرام کی کشش صرف طیارے کی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ ترقی کے مواقع بھی شامل ہیں، جو روایتی طور پر امریکی دفاعی فروخت میں دستیاب نہیں ہوتے۔
اسی دوران سعودیہ نے پاکستان کے تھنڈرجے ایف 17 طیارے حاصل کرنے پربھی بات چیت کی۔عالمی دفاعی ذرائع نے کہاہے کہ اسلام آبادکے ذمے قرضوں کے بدلے ان طیاروں کے حصول پر امریکہ نے اعتراض کرتے ہوئے روکنے کے لیے ریاض پر دبائوڈالا۔
مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) کے مطابق، امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ دوسرے ممالک، بالخصوص ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدے امریکی ہتھیاروں کی برآمدات کو نقصان پہنچائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے حالیہ دورے کے دوران سعودی عرب کو F-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت اور بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے کی توثیق تو کر دی ہے، تاہم امریکی سفارت کار اب بھی ریاض سے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے عسکری و تکنیکی رابطوں کے بارے میں واضح معلومات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا اصل اعتراض یہ ہے کہ وہ فنڈز جو ترکی کےکان طیاروں پر لگائے جا سکتے ہیں، درحقیقت امریکی مصنوعات کی خریداری کے بجٹ سے کم کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کرنے والے واحد ملک کے طور پر اپنی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔