بحریہ ٹاؤن کے گردگھیرا تنگ، مری میں 527 کنال اراضی کی نیلامی کا فیصلہ
اسلام آباد:26 ارب روپے کے ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے ایف بی آر مری میں بحریہ ٹاؤن کی 527 کنال اراضی 5 مارچ کو نیلام کرے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نادہندگی کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی تحصیل مری میں واقع 527 کنال اراضی نیلام کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ نیلامی 5 مارچ 2026 کو لارج ٹیکسپائرز آفس (LTO) اسلام آباد میں منعقد ہوگی، جس کا مقصد بحریہ ٹاؤن کے ذمہ واجب الادا 26 ارب روپے کے ٹیکسوں کی وصولی ہے۔
ایف بی آر نے پہلے اس نیلامی کے لیے 16 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی، تاہم اب اسے ری شیڈول کر کے 5 مارچ کر دیا گیا ہے۔ نیلام کی جانے والی زمین موضع کتھر شرقی، انگوری روڈ مری میں واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس جائیداد کی ریزرو قیمت (Reserve Price) 1.5 ارب سے 2 ارب روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
یہ کارروائی ٹیکس سال 2020 اور 2022 کے دوران مبینہ ٹیکس چوری اور اکاؤنٹنگ کے طریقہ کار میں تضاد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
بحریہ ٹاؤن برسوں سے صارفین کی رقم کو “ایڈوانس” کے طور پر ظاہر کر کے ٹیکس کی ادائیگی موخر کرتا رہا ہے۔
18 مارچ 2025 کو سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ زمین ڈویلپرز جو صرف پلاٹ فروخت کرتے ہیں، وہ یہ طریقہ استعمال نہیں کر سکتے۔ انہیں فروخت ہوتے ہی آمدنی کو ٹیکس کے لیے ظاہر کرنا ہوگا۔
اسی فیصلے کی روشنی میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے چھپائے گئے “ایڈوانسز” اب قابلِ ٹیکس آمدنی بن چکے ہیں، جس سے 26 ارب روپے کا ڈیفالٹ پیدا ہوا۔
حالیہ بجٹ میں ملنے والے خصوصی اختیارات کے تحت ایف بی آر ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے:
30 جنوری 2026 کو ایف بی آر نے کراچی میں واقع بحریہ ٹاؤن ٹاور کا کنٹرول سنبھال لیا جس میں 145 رہائشی یونٹس اور 42 دفاتر شامل ہیں۔
پارک روڈ اسلام آباد پر واقع دفتر کو پہلے ہی 2 ارب روپے سے زائد میں نیلام کیا جا چکا
ایف بی آر ‘مال آف اسلام آباد’ کے معاملات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے تاکہ عوامی سرمایہ کاری اور حکومتی ریونیو کو تحفظ دیا جا سکے۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ 26 ارب روپے کی وصولی مری کی زمین سے منسلک ہے اور اس کا کراچی بحریہ ٹاؤن کے 460 ارب روپے کے تصفیہ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔