شوگر کی حالت میں روزہ رکھنے کے لیے کھانے پینے کی یہ احتیاطیں ضروری ہیں

February 20, 2026 · ہیلتھ

 

روزہ آپ کے جسم کے لیے ایک لمبا فاسٹنگ پیریڈ ہے، اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو اس دوران شوگر کی سطح میں تیزی سے کمی یا اضافہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ روزہ رکھنے سے پہلے اپنے لائف سٹائل پر کام کریں۔طبی ماہرین کا کہناہے کہ سحری سب سے اہم کھانا ہے، اسے ہرگز نہ چھوڑیں۔ ایسی غذا لیں جو دیر سے ہضم ہو اور دیر تک توانائی دے، جیسے گندم کی چوکر سمیت روٹی، دال، انڈا، گوشت،دہی، سبزی ،لیکن میٹھی چیزیں، میٹھے مشروبات اور بہت زیادہ تلی ہوئی اشیا سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پہلے شوگر تیزی سے بڑھاتی ہیں اور پھر اچانک گرا دیتی ہیں۔

 

اپنے کھانوں میں غیر ضروری نمک کا اضافہ نہ کریں تاکہ دن میں پیاس اور کمزوری محسوس نہ ہو۔

 

زیادہ فائبر والی غذائیں جیسیبراون رائس اور دلیا زیادہ آہستہ سے جذب ہوتے ہیں اور ان کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو یہ غذائیں خون میں شوگر لیول کو نارمل رینج میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

 

سحری کے دوران آپ کو دن میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے کافی مقدار میں شوگر فری اور ڈی کیفینیٹڈ مشروبات کا استعمال کرنا چاہئے۔پانی بہترین آپشن ہے۔ میٹھے ڈرنکس یا پھلوں کے جوس پینے سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ آپ کے بلڈ شوگر کو بڑھا دیں گے اور پیاس لگے گی۔ ایسے تازہ پھل اور سبزیاں بھی کھائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو۔ آپ انہیں سحری یا افطاری دونوں میں کھا سکتے ہیں۔

 

دودھ کے مشروبات جیسے لسی پروٹین اور کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہیں، لیکن ان کو میٹھے کے بغیر لینا صحت بخش ہوگا۔

 

افطار میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ سارا دن بھوکے رہنے کے بعد ایک دم زیادہ کھا لیتے ہیں۔ آپ آہستگی سے افطار کریں، متوازن کھانا کھائیں جس میں پروٹین، سبزی اور مناسب مقدار میں کاربوہائیڈریٹس ہوں۔

 

افطارمیں تلی ہوئی چیزیں، جلیبی، شربت اور بہت زیادہ سفید آٹے کی اشیا روزانہ کی عادت نہ بنائیں کیونکہ اس سے شوگر تیزی سے اوپر جاتی ہے۔

 

روزے کے دوران شوگر چیک کرتے رہنا بہت ضروری ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر شوگر 70 سے کم ہو جائے، چکر آئیں، پسینہ آئے یا کمزوری محسوس ہو تو فورا روزہ توڑ دیں، اسی طرح اگر شوگر بہت زیادہ بڑھ جائے تو بھی روزہ جاری رکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

 

افطار کے بعد ہلکی واک مفید ہے لیکن سخت ورزش نہ کریں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے اپنی دواوں یا انسولین کے اوقات اور مقدارکے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے باقاعدہ مشورہ کریں، خود تبدیلی نہ کریں، کیونکہ صحیح پلاننگ کے ساتھ ہی آپ محفوظ طریقے سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔