مصنوعی ذہانت سازکمپنیاں مالی طورپر کس قدر امیر ہوچکی ہیں،اقوام متحدہ نے بتادیا
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مناسب ضابطے اور حفاظتی اقدامات عمل میں نہ لائے گئے تو مصنوعی ذہانت عدم مساوات کو مزید گہرا کرنے، تعصبات کو بڑھانے اور نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اثرات پر نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس میں انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کے ایک ایسے فریم ورک کے تحت منظم کیا جانا چاہیے جو شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کو یقینی بنائے۔ ادویہ سازی کی صنعت کاحوالہ دیتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ کسی نئی دوا کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے طویل آزمائشی مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس سے لاحق ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی ضروری ہے کہ کمپنیاں اس کی تیاری، اجرا اور مارکیٹنگ کے ہر مرحلے میں انسانی حقوق پر اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسی چند کمپنیوں کے بجٹ بعض چھوٹے ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر کوئی ٹیکنالوجی کو نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا میں کنٹرول کر سکتا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کے پاس بہت بڑی طاقت ہے۔ اس طاقت کو صحت وتعلیم اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں بھلائی کے لیے کام میں لایا جا سکتا ہے لیکن اسے خودکار مہلک ہتھیار بنانے، غلط معلومات پھیلانے، نفرت انگیزی اور پرتشدد زن بیزاری کو ہوا دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تیاری کے نظام سے وابستہ لوگوں کو عموما ًبنیادی سماجی و اخلاقی اصولوں کی گہری سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔وولکرکے مطابق یہ کسی حد تک فرینکینسٹائن کے بھوت جیسا معاملہ ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز تخلیق کر دیتے ہیں جس پر بعد میں آپ کا قابو نہ رہے۔ اگر خطرات اور نقصانات کا ادراک نہ کیا جائے تو تباہی آ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اے آئی سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں یا چند ارب پتی افراد کی منشا پر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی دینے کے لیے ایک عالمی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے مہارتوں کی ترقی، معلوماتی صلاحیت میں اضافہ، سستی کمپیوٹنگ سہولیات کی فراہمی اور جامع ماحولیاتی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اگر ان شعبوں میں بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بہت سے ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کے لیے تین ارب ڈالر کے فنڈ کی ضرورت ہے جو کسی ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ ایک معمولی سی قیمت ہے جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد تمام لوگوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سب کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک، صنعتوں اور سول سوسائٹی کو اس پینل کے کام میں تعاون کرنا ہو گا۔ٹیکنالوجی کو انسانی زندگی میں بہتری اور کر ہ ارض کے تحفظ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ ایسی مصنوعی ذہانت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو سب کے لیے ہو اور جس کی بنیاد انسانی وقار پر ہو۔