قطر سمیت کئی خلیجی بیسز پر موجود سیکڑوں امریکی فوجیوں کا انخلا، نیو یارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطر کے العدیدبیس سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کو نکال لیا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے اڈوں سے بھی فوجیوں کا انخلا کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کے اڈوں پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ۔
اس اقدام کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے پہلے ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اس وقت خطے کے 13 اڈوں پر 30 ہزار سے 40 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو کسی بھی جنگ کی صورت میں براہِ راست خطرے میں آ سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر دفاعی بیٹریاں بھی خطے میں منتقل کی جا رہی ہیں۔
نیویورک ٹائمز کی اس رپورٹ کے فوراً بعد فاکس نیوز اور نیوز نیشن نے امریکی حکام کے حوالے سے اس کی تردید کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔
حالیہ دو ہفتوں میں امریکیوں نے ایرانی جوہری پروگرام کی سنگینی پر زور دیا ہے اور واشنگٹن میں یہ امکانات غالب ہیں کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ترجیح ہوگی۔ادھر،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر میجر جنرل امیر حیات مقدم نے کہا ہے کہ ایران “کسی بھی امریکی فوجی خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے”۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ “کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں طیارہ بردار بحری جہاز کا غرق ہونا یا خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے”۔
حیات مقدم نے ایران آبزرویٹری ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں یہ بعید نہیں کہ کوئی امریکی بحری جہاز ڈبو دیا جائے یا اس کے فوجیوں کو قیدی بنا لیا جائے ، ہم تمام امریکی افواج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، خواہ وہ سپاہی ہو یا جنرل، اور آپ کسی بھی لمحے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کا محل حملے کی زد میں آ گیا ہے۔