کھلونے کو اپنی ماں سمجھ کر گلے لگانے والے ننھے بندر کی کہانی کیا ہے؟
جولائی 2025 میں جاپانی صوبے چیبا کےایک چڑیاگھرمیں ایک ننھامیکاک بند پیدا ہوا، جس کا نام پنچ کن (Punch-kun) رکھا گیا پیدائش کے فوراً بعد اس کی ماں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ شایدپہلی بار ماں بننے کی ناتجربہ کاری یا چڑیا گھر کے ماحول کا دباؤ تھا۔
چونکہ ماں کی دیکھ بھال کے بغیر ایک بندر کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے زو کیپرز نے پنچ کی 24 گھنٹے نگرانی شروع کی۔ اسے بوتل سے دودھ پلایا گیا اور مسلسل دیکھ بھال فراہم کی گئی۔پھر اسے دوبارہ بندروں کے باڑے میں چھوڑ دیا گیا۔ شروع میں وہاں گھل مل جانے کی اس کی کوششیں ناکام رہیں؛ دوسرے بندروں نے یا تو اسے نظر انداز کیا یا پھر اسے خوب تنگ کیا۔
عملے کے ایک ذہین رکن نے اسے نفسیاتی سہارے اور ماں کے نعم البدل کے طور پر ایک بڑا بھراہواکھلونا دیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر، پنچ نے اس کھلونے کو اپنی ماں سمجھنا شروع کر دیا۔وہ اسے گلے لگاتا، ساتھ لے جاتا، سوتے وقت لپٹتا اور دوسرے بندروں سے اس کا دفاع بھی کرتا۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ یتیم بندروں میں عام ہے، جو مشہور نفسیاتی تجربات میں بھی دیکھا گیا ہے۔
پنچ کی وہ ویڈیوز، جن میں وہ دوسرے بڑے بندروں کے گرد گھومنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر دھتکارے جانے پر مایوس ہو کر اپنے کھلونے کی آغوش میں پناہ لیتا ہے، سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکی ہیں۔
زو کیپرکے مطابق ، اس کھلونے پرپنچ کی محبت اور انحصار دیکھ کر ہم سب حیران ہیں۔ یہ نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے دیگر بندروں کے ساتھ سماجی تعلقات بنانے کا اعتماد بھی دیتا ہے۔
This hurts to watch 😭💔
Little Punch was pulled and bullied by a bigger monkey.
She cried and clutched her adoptive mother doll like it was her only safe place. pic.twitter.com/440ovDykN9
— Hinduism_and_Science (@Hinduism_sci) February 20, 2026
ابتدائی دنوں میں پنچ دوسرے بندروں کے گروپ میں گھلنے ملنے کی کوشش کرتا، مگر اکثر نظر انداز یا دھتکارا جاتا۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس نے گروپ میں سماجی میل جول شروع کر دیا ہے اور کھلونے پر اس کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔
پنچ کی کہانی عالمی سطح پر وائرل ہوئی، اور اسے دیکھ کر لوگوں نے حوصلہ افزائی کے پیغامات بھیجے۔ کچھ معروف شخصیات، جیسے کرپٹو سرمایہ کارجسٹن سن اورIKEA جاپاننے اسے تحائف بھیجے۔ اسے خریدنے کی بڑیپیشکشیں (تقریباًاڑھائی لاکھ ڈالر) زو انتظامیہ نے مسترد کر دیں، تاکہ پنچ کو محفوظ اور قدرتی ماحول میں رکھا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چڑیا گھر میں کھلونے کی مدد سے دوسرے بندروں کے ساتھ گھلنے ملنے والا تیسرا بندر ہے، پہلے بھی دو بندروں کو اسی طریقے سے کامیابی سے سماجی گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔