عالمی کانفرنس ناکام، بھارتی دانشوروں نے مصنوعی ذہانت میں ترقی کے حکومتی دعووں کا پول کھول دیا
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بین الاقوامی اے آئی کانفرنس،جس کا آغاز بدنظمی اور افراتفری کے ساتھ ہوا تھا ، پورے وقت اسی نااہلی کا شاہکاربنی رہی، اور اس کا اختتام کڑی داخلی تنقید اور شکوک وشبہات کے ساتھ ہوگیا۔
بھارتی دانش ور اور ٹیکنالوجی ماہرین کا کہناہے کہ ایونٹ میں گورننس کے لیے رہنمااصول جاری کیے گئے لیکن میڈیا کے ماہرین میں سے بہت کم(اگر کوئی ہیں بھی) نے بھارتی عوام کو یہ بتایا ہے کہ یہ اے آئی گورننس گروپ کیا کرے گا، شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کیسے کرے گا، اور خود کو عوام یا پارلیمنٹ کے سامنے کیسے جواب دہ بنائے گا۔ اے آئی گورننس کے فریم ورک کے قیام کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے، جو کسی بھی حکمرانی کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔
مصنف اور کالم نگار ویر سنگھوی نے سمٹ کوبیان کرتے ہوئے کہ آپ مصنوعی ذہانت کا جشن منانا چاہیں گے، لیکن حکومت کی بات کریں تو وہاںقدرتی ذہانت کی شدید کمی نظر آتی ہے۔
بھارتی میڈیانے سمٹ کے انتظامی معاملات میں خرابیوںکواجاگر کیا۔ یعنی ٹریفک جام، جنہوں نے نہ صرف عوام بلکہ مندوبین کو بھی شدید مشکلات میں ڈالا۔ وہ مندوبین جو بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے عشائیہ میں بروقت نہ پہنچ سکے اور 4گھنٹے ٹریفک میں پھنسنے کے بعد ہوٹل واپس لوٹ گئے۔ سیکورٹی کے بھی مسائل، جن میں چوری کا واقعہ بھی شامل تھا۔ اور وہ خبر بھی، جو بین الاقوامی میڈیا تک پہنچی، یعنی گلگوٹیا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے چین میں تیار کردہ روبوٹ ڈاگ کو یونیورسٹی کی ایجاد قرار دیا۔
اے آئی سمٹ کے اختتام پر عوام کو اے آئی گورننس کے بارے میں زیادہ باخبر ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان تکرار چھڑ گئی۔ جب پیوش گوئل نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ سمٹ کے مقام پر یوتھ کانگریس کے غیراخلاقی احتجاج پر معافی مانگیں۔ایک طرح سے اے آئی گورننس کا اہم اور فوری سوال پس منظر میں چلا گیا، میڈیا اور سوشل میڈیا ناقص انتظام اور پولیس و سیکورٹی اہلکاروں کی نااہلی سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کی خبروں سے بھر گئے۔ اے آئی گورننس صرف ڈیٹا پر کنٹرول کا معاملہ نہیں۔ اس میں وہ فریم ورک، پالیسیاں اور عملی اقدامات شامل ہیں جو یہ یقینی بنائیں کہ اے آئی سسٹمز کو ذمہ داری کے ساتھ تیار، نافذ اور استعمال کیا جائے۔ یہ انصاف اور شفافیت جیسے اخلاقی خدشات کا احاطہ کرتی ہے اور تعصب یا رازداری کی خلاف ورزی جیسے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اے آئی امپیکٹ سمٹ کے تناظر میں اے آئی گورننس کا سوال اس بحث سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پیداوار اور معاشی ترقی میں اضافہ کرے گی یا بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور بدحالی کا سبب بنے گی۔ کم از کم بھارتی حکومت سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری اور ڈیٹا سنٹرز کے استعمال کی ترغیب دینے سے پہلے ایک مضبوط قانونی فریم ورک تیار کرتی تاکہ ہر شعبے میں اے آئی کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔
اے آئی کنٹرول کا فریم ورک موثرہونے پر مفید بحثیں کم ہی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحت اور تعلیمی اداروں میں اے آئی کے نفاذ کے دوران یہ گائیڈلائنز کس حد تک موثر ہوں گی، یہ ادارے خود اے آئی سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر گلگوٹیا یونیورسٹی کا واقعہ کوئی اشارہ ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ابھی اے آئی کے لیے تیار نہیں لگتے۔
اے آئی سمٹ میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے جو مصنوعی ذہانت کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور یہ وہی نسل ہے جو سوشل میڈیا اور چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ انہیں اے آئی کارپوریشنز پر تنقید اور ماہرین کی ان وارننگز تک رسائی نہیں ملی کہ بغیر اے آئی گورننس کے یہ ٹیکنالوجی مختلف سطحوں پر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق ،سمٹ کے دوران ہی ٹائمز آف انڈیا نے ایک پریشان کن خبر شائع کی کہ اے آئی ناموں کی بنیاد پر ذات کی شناخت کرکے ملازمتیں تفویض کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب اوشا بنسل اور پنکی اہیروار (2 نام جو صرف ایک تحقیقی پرامپٹ میں موجود تھے)کو جی پی ٹی-4 کے سامنے پیش کیا گیا اور پیشوں کی فہرست دی گئی تو اے آئی نے ہچکچاہٹ نہیں کی۔ سائنسداں، ڈینٹسٹ اور مالیاتی تجزیہ کار بنسل کو دیے گئے۔ مینوئل اسکیوینجر، پلمبر اور تعمیراتی مزدور اہیروار کو تفویض کیے گئے۔ ماڈل کے پاس ان افراد کے بارے میں ناموں کے علاوہ کوئی معلومات نہیں تھیں لیکن اسے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔بھارت میں خاندانی نام اکثر ذات، برادری اور سماجی درجہ بندی کے پوشیدہ اشارے رکھتے ہیں۔ بنسل برہمن وراثت کی علامت ہے، اہیروار دلت شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور جی پی ٹی-4 نے، اس معاشرے کے ڈاٹا کی طرح جس پر اسے تربیت دی گئی، اس فرق کے مضمرات سیکھ لیے تھے۔
بھارتی تجزیہ کار سوال اٹھارہے ہیں کہ اے آئی گورننس ان مسائل سے کیسے نمٹے گی؟ یا کیا اے آئی ان لوگوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن جائے گی جو ملک کو مذہبی، ذات پر مبنی اور صنفی شناختوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟
اے آئی امپیکٹ سمٹ سے بھارتی شہریوں کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ وہ خود کو نئی ٹیکنالوجیز کے علم اور فہم سے آراستہ کریں تاکہ اے آئی پر بحثوں میں حصہ لے سکیں، کیونکہ اے آئی گورننس تبھی موثر ہو سکتی ہے جب عوام باخبر ہوں اور اپنے حقوق و مستقبل کا تحفظ کر سکیں۔