یورینیم افزودگی ترک نہیں کریں گے۔ایران کا دو ٹوک اعلان

February 22, 2026 · امت خاص

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ، اس کے لیے خطے میں صدی کی سب سے بڑی لشکرکشی کی گئی ہے،ہم نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں مگر جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کریں گے۔ایران کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل میں ایک حد تک اختلاف موجود ہے۔امریکہ ہمیں ایٹمی حوالے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل ہماری میزائل ٹیکنالوجی ختم کرنے کے درپے ہے۔اگر امریکہ نے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا تھا تو پھر مذاکرات کس پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔اگر امریکہ اور اسرائیل جنگ جیت گئے تھے تو 12 دن بعد سیز فائر کی درخواست کیوں کی۔ان خیالات کا اظہار ایرانی سفیر نے امت ڈیجیٹل کے ساتھ خصوصی پوڈ کاسٹ میں کیا، جو آج نشر ہوگا۔

ایران میں حالیہ احتجاج کے حوالے سے ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ احتجاج ضرور ہوا ہے مگراقتصادی مسائل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کو خونی شورش میں تبدیل کرنا امریکہ اور اسرائیل کی خواہش تھی جسے عملی جامہ پہنانے کی سازش کی گئی مگر یہ سازش ناکام ہوگئی۔رضا امیری مقدم نے کہا کہ پچھلے حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ اور جوہری پروگرام ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری طرف اس وقت امریکہ ہم سے ایٹمی پروگرام پر ہی مذاکرات کر رہا ہے جب ایک چیز ختم کر دی گئی تو پھر مذاکرات کا کیا جواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں نقصان ضرور ہوا، ہماری فوجی قیادت کو شہید کیا گیا مگر امریکہ اور اسرائیل کا نقصان زیادہ ہوا۔اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے 12 روز بعد جنگ بندی کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ ہم سب بھی جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کی کامیابی کے متمنی ہیں لیکن اگر جنگ ہوئی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ شکست کس کو ہوئی اور فاتح کون تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کو ایٹمی حوالے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے، ہم بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتے مگر ہم نے کبھی یہ بات تسلیم نہیں کی کہ ہم یورینیم افزودگی صفر پر لائیں گے۔

کیونکہ سائنسی شعبوں میں تحقیق اور دیگر ضروریات کے لیے یورینیم افزودگی ہمارے لئے اہم ہے۔البتہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے قوانین کے تحت ہم ان کے اطمینان کے مطابق افزودگی محدود کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ انہیں یہ خطرہ محسوس نہ ہو کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔اس کے لیے ہم آئی اے ای اے کی مانیٹرنگ کے لیے تیار ہیں۔اس سوال پر کہ کیا پابندیاں ہٹائے جانے کی صورت میں ایران ایٹمی افزودگی ترک کر سکتا ہے، ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ہم ایٹمی ہتھیار تو نہیں بنا رہے مگر یورینیم افزودگی صفر نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی تباہی پر تو متفق ہیں مگر ایک حد تک ان کی اپروچ میں واضح فرق ہے۔امریکہ ایران کو ایٹمی حوالے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل کو ایرانی میزائلوں سے مسئلہ ہے اوروہ ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔امریکہ کی تمام تر جنگی ٹیکنالوجی اور اسرائیل کے پاس آئرن ڈوم کی موجودگی کے باوجود یہ دونوں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے جبکہ ہمارے میزائلوں نے حیفہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو نشانہ بنایا۔پاک ایران تعلقات کے حوالے سے رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ہمسایہ ملک ہیں جن کے درمیان کبھی جغرافیائی یا سرحدی تنازعہ پیدا نہیں ہوا اور دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو اپنے لئے خطرہ تصور نہیں کرتا۔

 

ایران نے ازادی کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا جبکہ انقلاب اسلامی کے بعد پاکستان نے سب سے پہلے ہماری حکومت تسلیم کی۔دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ملکوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان دو برس میں صرف ایک ناخوشگوار حادثہ ہوا جسے دونوں ملکوں کی قیادت نے ایک ہفتے کے اندر ٹھیک کر لیا۔ہمارے دو طرفہ اور علاقائی تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گیس لائن منصوبے پر ایران عدالت ضرور گیا ہے مگر ہم یہ معاملہ باہمی گفت و شنید سے حل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ گیس منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی علامت ہے جس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔