ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں 2 بڑے سوالات

February 23, 2026 · امت خاص

 

تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی کے دوران 2بڑے سوالات ابھرے ہیں۔ پہلے سوال کی نشان دہی ایرانی مسئلے پر امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف نے کی ۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا انہوں نے تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکہ کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے۔وٹکوف نے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور آ کر صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے؟

 

دوسراسوال صورت حال کے طویل ہوتے سفارتی پہلوسے نکلتاہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوگا، تہران کو امیدہے کہ ایک ایٹمی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے، جو امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مذاکرات کریں گے، امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ سفارتی حل کے لیے اب بھی اچھا موقع موجود ہے۔ادھراعلیٰ سطح کے امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اگر اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ایٹمی معاہدے کے حوالے سےتفصیلی تجویز موصول ہوتی ہے تو امریکی مذاکرات کارجنیوا میں ایران کے ساتھ نئے مذاکراتی دور کے لیے تیار ہیں تاکہ یہ جاننے کے لیے تفصیلی مذاکرات شروع کیے جا سکیں کہ آیا ایٹمی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ امریکی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران مکمل ایٹمی معاہدے پر اتفاق سے قبل ایک عبوری معاہدے کے امکان پر بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔

 

گزشتہ منگل کو جنیوا میں ہومذاکرات کے آخری دور کے دوران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے چند دنوں کے اندر ایران کی جانب سے ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔وٹکوف اور کشنر نے عراقچی کو بتایا کہ ٹرمپ کا موقف ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہ کرنا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایک ایسی ایرانی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی جس میں علامتی افزودگی شامل ہو بشرطیکہ ایران یہ ثابت کر دے کہ یہ منصوبہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے تمام راستوں کو روکتا ہے۔

 

عباس عراقچی نے جمعہ کو ’’ ایم ایس ناؤ‘‘ چینل پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ہفتے کے آخر تک تجویز کی تیاری مکمل کر لیں گے اور تہران میں سیاسی قیادت کی منظوری ملتے ہی اسے وٹکوف اور کشنر کے حوالے کر دیں گے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو متنبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف محدود فضائی حملے ممکن ہیں،جمعرات کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ تھاکہ امریکی فوج (گذشتہ) ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہےتاہم ا،س معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ ایسی کارروائیوں کی اجازت دیں گے یا نہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو بریفنگ دی گئی ہے کہ حالیہ دنوں مشرق وسطیٰ میں فضائی اور بحری اثاثوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے بعد، فوج ہفتے کے آخر تک حملے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک ذریعے نے خبردار کیا کہ ٹرمپ نے نجی طور پر فوجی کارروائی کے حق اور مخالفت دونوں میں دلائل دیے ، اور مشیروں و اتحادیوں سے اس بارے میں رائے لی کہ بہترین طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔

 

سی این این کے مطابق ایک باخبر شخص نے بتایا کہ انتظامیہ کے اعلیٰ قومی سلامتی کے حکام نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ملاقات کی تھی تاکہ ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہاگیاتھاکہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ٹرمپ ہفتے کے آخر تک کوئی فیصلہ کریں گے یا نہیں۔ایک ذریعے نے بتایاکہ وہ اس بارے میں سوچنے کے لیے کافی وقت صرف کر رہے ہیں۔

 

ایرانی وزیرخارجہ عراقچی نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ ایران اب بھی ڈرافٹ پروپوزل پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ جمعہ کو انہوں نے کہا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصبوں نے مذاکرات کے تازہ ترین دور میں صفر افزودگی (zero enrichment) کا مطالبہ نہیں کیا، جو کہ امریکی حکام کے عوامی بیانات کے برعکس ہے۔

 

ایران اور امریکہ دونوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایٹمی پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں لیکن ہم امریکی اقدامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام ضروری تیاریاں کر لی ہیں۔

 

عرب میڈیانے کہا ہے کہ اگرچہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور دیگر کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد ہتھیار بنانا ہے۔ ایران، جو کھلے عام اسرائیل کی تباہی کا خواہاں ہے، یورینیم کو ان سطحوں تک افزودہ کر چکا ہے جن کا کوئی پرامن مقصد نہیں۔

 

یورینیم افزودگی کے موضوع پر عراقچی نے اتوار کو کہاکہ ایک خودمختار ملک کے طور پر، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔اس کے باوجود، روئٹرز نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران اب پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کیے جانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر اضافی رعایتیں حاصل کرنے کا تقاضا کر رہا ہے۔ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کا آدھا حصہ بیرون ملک بھیجنے، باقی کو کم کثیف (dilute) کرنے اور ایک علاقائی افزودگی کنسورشیم کی تشکیل میں حصہ لینے کے امتزاج پر سنجیدگی سے غور کرے گا ۔ یہ خیال ایران سے متعلقہ سفارت کاری میں برسوں سے وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔اہلکار نے کہا کہ ایران یہ اقدامات امریکہ کی جانب سے ایران کے پرامن جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے کرے گا، ایک ایسے معاہدے کے تحت جس میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہوگا۔مزید برآں، ایران نے امریکی کمپنیوں کے لیے ایران کی بڑی تیل اور گیس کی صنعتوں میں بطور ٹھیکیدار شرکت کے مواقع بھی پیش کیے ہیں۔اہلکار نے کہاکہ زیرِ بحث اقتصادی پیکج کے اندر، امریکہ کو ایرانی تیل کی صنعت میں سنجیدہ سرمایہ کاری اور ٹھوس اقتصادی مفادات کے مواقع بھی پیش کیے گئے ہیں۔

 

منگل 17 فروری کے جنیوا مذاکرات کے آخری دور کے دوران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے عباس عراقچی سے چند دنوں کے اندر ا ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وٹکوف اور کشنر نے عراقچی کو بتایا کہ ٹرمپ کا موقف ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہ کرناہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایک ایسی ایرانی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی جس میں علامتی افزودگی شامل ہو۔

 

ایک طرف عراقچی نے معاہدے کی امید ظاہر کی، وہیں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو دھمکیاں بھی دیں۔عراقچی نے خطے میں امریکی مفادات کو ممکنہ اہداف کے طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرتا ہے، تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔انٹرویو میں جب ان سے ان کمزوریوں کے بارے میں پوچھا گیا جو اسرائیل کی جانب سے ایران کے فضائی دفاع کو تباہ کرنے اور تہران کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کرنے سے سامنے آئی تھیں، تو عراقچی نے اصرار کیا کہ ایران اسرائیل کے ساتھ جون 2025 کی جنگ کے مقابلے میں دفاعی طور پر بہتر صورتحال میں ہے اور حملے کی صورت میں اپنے میزائلوں سے اسرائیل پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے انٹرویو میں کہاجی ہاں، ہمیں اپنے فضائی دفاع کے ساتھ مسئلہ تھا، لیکن اسرائیلیوں کو بھی اپنے فضائی دفاع کے ساتھ مسئلہ تھا اور ہمارے میزائل اسرائیل کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جنگ شروع کی تھی، لیکن 12 دنوں کے بعد، انہوں نے جنگ بندی، غیر مشروط جنگ بندی کی درخواست کی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ہمارے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع نہیں کر سکے تھے۔ لہذا ہمارے پاس میزائلوں کی بہت اچھی صلاحیت ہے، اور اب ہم پچھلی جنگ سے بھی بہتر صورتحال میں ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائلوں نےاپنے اہداف کو بہت درست طریقے سے نشانہ بنایا، اور وہ ایسا دوبارہ کر سکتے ہیں۔

 

گزشتہ جون کی 12 روزہ جنگ کے دوران، کہا جاتا ہے کہ چھ میزائل فوجی اڈوں پر لگے، 36 دیگر اسرائیل کے اندر مختلف مقامات پر گرے، جو اسرائیلی اور امریکی فضائی دفاع سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس دوران 32 افراد ہلاک ہوئے اور 240 عمارتوں میں 2 ہزار سے زیادہ گھروں کے ساتھ ساتھ دو یونیورسٹیوں اور ایک ہسپتال کو نقصان پہنچا، جس سے13 ہزارسے زیادہ اسرائیلی بے گھر ہوئے۔

 

عباس عراقچی نے نیوز نیٹ ورک ’’ سی بی ایس ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی حل میز پر موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر واشنگٹن اپنے خدشات کو دور کرنا چاہتا ہے تو سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ عراقچی نے کہا امریکی فوجی طاقت کا جمع ہونا ایران کو خوفزدہ نہیں کرے گا اور اس(خوف زدہ ہونے) کی کوئی ضرورت نہیں ۔

 

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے منگل کے رو زایکس (ٹویٹر) پر ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصویر پوسٹ کی جس میں دوسرے امریکی بحری بیڑے جیرال فورڈ کو سمندر کی تہہ میں دکھایا گیا ہے۔خامنہ ای کی پوسٹ میں کہا گیاکہ امریکی صدر مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی طرف ایک(اور) جنگی جہاز بھیجا ہے۔ بے شک، جنگی جہاز ایک خطرناک فوجی ساز و سامان ہے، لیکن زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ تک بھیج سکتا ہے۔

 

ٹرمپ نے جمعرات کو تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے یا انتہائی برے حالات کا سامنا کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی۔

 

امریکی میڈیا حملے میں تاخیر پر کچھ دیگر عوامل کابھی جائزہ لے رہاہے۔اس جائزے کے مطابق،کئی کیلنڈر ایونٹس (تقریبات) حملے کے وقت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سرما ئی اولمپکس جو روایتی طور پر عالمی اتحاد کا لمحہ ہوتے ہیںاتوار تک تھے؛ کچھ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اس سے پہلے کوئی حملہ نہیں ہوگا۔بدھ سے رمضان المبارک کا آغاز ہو ا مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے کچھ حکام جنہوں نے علاقائی عدم استحکام کے خوف سے حملے کے خلاف لابنگ کی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے کے دوران حملہ امریکی بے احترامی کا اظہار ہوگا۔ مزید برآں، ٹرمپ منگل کو اپنا سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب دے رہے ہیں؛ صدارتی معاونین کے مطابق یہ خطاب غالباً داخلی مسائل پر ٹرمپ کے وسط مدتی انتخابی سال کے پیغام کا آغاز ہوگا۔ یہ واضح نہیں کہ آیا صدر اپنے آپشنز پر غور کرتے وقت ان میں سے کسی کو مدنظر رکھ رہے ہیں یا نہیں۔