بیرسٹر گوہر عمران خان رہائی فورس کی تشکیل روکنے میدان میں آگئے

February 24, 2026 · اہم خبریں, قومی

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک متنازع اقدام کو روکنے کے لیے مداخلت کی ہے، جس میں پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ایک خصوصی “رہائی فورس” قائم کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ کو واضح کیا کہ کسی بھی ایسے گروپ کی تشکیل، جسے “فورس” کہا جائے اور جس کے ارکان کسی سیاسی مقصد کے لیے حلف اٹھائیں، غیر آئینی اور غیر قانونی ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں اسے عسکریت پسندی کے زمرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن رہنماوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا تاکہ پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کے اندر سیاسی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ابتدا میں 22 فروری کو حلف برداری کا ارادہ ظاہر کیا تھا، مگر داخلی اعتراضات کے بعد اسے موخر کر دیا گیا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ حلف برداری رمضان کے بعد ممکن ہے۔

پارٹی کے سینئر رہنما یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصوبے نے مرکزی قیادت میں تشویش پیدا کی کیونکہ کسی نیم تنظیمی “فورس” کی تشکیل قانونی کارروائی اور محاذ آرائی کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے مشورہ دیا کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہونا ضروری ہے تو اس کے لیے صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح پر قانونی سیاسی کمیٹیاں قائم کی جائیں، جیسا کہ ماضی میں سیاسی تحریکوں میں کیا جاتا رہا ہے۔

پارٹی کے حالیہ اجلاس میں اس معاملے پر نمایاں بحث ہوئی اور شرکاء کو عوامی سطح پر تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، تاکہ اندرونی تنازع کو محدود رکھا جا سکے۔

یہ واقعہ پی ٹی آئی کے اندر حکمت عملی کے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بعض رہنما جارحانہ اقدامات کے حق میں ہیں جبکہ دیگر محتاط اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رہائی فورس کا آئیڈیا پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید نے دیا تھا، اور سہیل آفریدی کو صوبائی چیف ایگزیکٹو کے منصب کے لیے مراد سعید کا نامزد کردہ امیدوار سمجھا جاتا ہے۔