عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 7 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور

February 24, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے منگل کو ضمانت کی ان درخواستوں پر سماعت کی اور پچاس، پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کیں۔

عمران خان کے خلاف 9 مئی، آزادی مارچ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلائو گھیراؤ اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدیں جمع کروانے سے متعلق مقدمات درج ہیں۔

بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدیں جمع کروانے سے متعلق مقدمہ اسلام آباد میں تھانہ کوہسار میں درج ہے۔

پراسیکوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے۔

پراسیکوشن کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ملزمان ضمانتوں کے حقدار نہیں ہیں اور دونوں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔

عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اور عدالت کے کیریئر میں پہلی مرتبہ ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے پر اتنی تاخیر ہوئی ہے۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ 30 مواقع پر عدالت نے جیل حکام کو ان کو موکلوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا مگر اس احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ کچھ مقدمات حکومت ڈرانے کے لیے بناتی ہے، جن میں فرد جرم کبھی عائد نہیں ہوئی ۔ انھوں نے جج کو کہا کہ جو مقدمات آج اس عدالت کے سامنے ہیں وہ بھی ایسے ہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کسی کیس میں تفتیش نہیں ہوئی، چالان نہیں آیا جبکہ پراسیکوشن کی بھی ان مقدمات میں دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ 2023 میں یہ کیسز بنے اور اب 2026 آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت پولیس کی ڈائری دیکھ لے کہ کب کب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کیاگیا اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

عدالت نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا توشہ خانہ کی رسید برآماد کی گئی، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ رسید برآمد نہیں ہوئی اور ملزمان جعلی رسیدوں کو میڈیا پر لہراتے رہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر میڈیا پر لہراتے رہے تو کیا ان کا فرانزک کروایا گیا، جس کے بارے میں عدالت کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کے سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں۔