سندھ ہائیکورٹ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن کیلئے نادرا کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دے دیا
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن کیلئے نادرا کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے نادرا کو یونین کونسل اور سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ کی مشاورت سے مکینزم بنانے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ یتیم خانوں میں مقیم لاوارث بچوں کو والدین کی تفصیلات اور قانونی دستاویزات جاری کی جائیں۔ دوران سماعت جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیاکہ یتیموں کے لئے کوئی پالیسی نہیں یتیموں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ ڈائریکٹرسوشل ویلفیئر نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 39 دارالاطفال ہیں،جبکہ سکھر میں ایک دارالاطفال ہے۔
جسٹس ذوالفقارسانگی نےبرہمی کا اظہارکرتےہوئےکہا کہ آپ کوکچھ نہیں معلوم،سکھر میں تین یتیم خانے ہیں۔آپکے ادارے کا نام سوشل ویلفیئر ہے لیکن سوشل ویلفیئر کا کام کب کرتے ہو۔
جسٹس عدنان الکریم نے نادرا کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی پالیسی قانون کے خلاف ہے،کسی طبقے کو قومی ڈیٹابیس سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ عرصے بعد آپ کہیں گے 40 سال پرانا ریکارڈ لیکرآؤعدالت نےنادرا کو ہدایت کی کہ لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کے لیے یکساں طریقہ کار وضع کریں۔