امریکی فوج کے سربراہ کو ایران پرحملے سے اتفاق نہیں۔ سی این این
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کی حیثیت سے جنرل ڈین کین ایران پر ممکنہ حملے کے فوجی آپشنز تیار کر رہے ہیں۔ اس دوران، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے اعلی حکام کا تانتا بندھا ہوا ہے جنہیں خاموشی سے براہ راست ان کے دفتر طلب کیا گیا ہے۔
عام طور پر، حساس فوجی آپریشنز پر بحث پینٹاگون کے اس انتہائی محفوظ کانفرنس روم میں ہوتی ہے جسے ‘ٹینک’ (The Tank)کہا جاتا ہے۔ لیکن اس انتظامیہ میں، جس کی پوری توجہ معلومات کے افشا (leaks)کو روکنے پر ہے، کین جو اپنی شدید رازداری کے لیے مشہور ہیں کو خدشہ تھا کہ دفاعی محکمے کے اعصابی مرکز میں بہت کم وقت کے نوٹس پر اعلی حکام کو جمع کرنا شکوک و شبہات پیدا کر دے گا۔ معاملے سے واقف کئی ذرائع نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
ان ملاقاتوں اور پینٹاگون میں دیگر نشستوں میں، کین نے ایران کو نشانہ بنانے والے بڑے فوجی آپریشن کے ممکنہ منفی پہلوئوں کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اس طرح کے مشن کے پھیلائو، پیچیدگی اور امریکی ہلاکتوں کے خدشات پر آواز اٹھائی ہے۔
یہ خدشات وائٹ ہائوس سے آنے والے بیانات سے میل نہیں کھاتے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے پرجوش رہے ہیں کہ امریکی فوج کتنی آسانی سے فتح حاصل کر سکتی ہے، اگرچہ اس کامیابی کے صحیح خدوخال ابھی تک واضح نہیں کیے گئے۔تاہم، کین اس بات پر پختہ ہیں کہ وہ اپنے پیشرو، جنرل مارک ملی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں اور ٹرمپ کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھیں۔ ملی اپنی پہلی مدت کے دوران کئی بار براہ راست ٹرمپ سے الجھ پڑے تھے، خاص طور پر احتجاج کو کچلنے کے لیے اندرون ملک فوج کی تعیناتی کے معاملے پر، اور کبھی کبھار وہ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کے اثرات کو نجی طور پر کم کرتے تاکہ پریشان حال اتحادیوں اور دشمنوں کو تسلی دے سکیں۔
کین کے لیے ملی والے رویے سے بچنے کا مطلب ٹرمپ کے سامنے زیادہ محتاط رہنا اور فیصلوں پر بہت براہ راست رائے دینے سے گریز کرنا ہے، بشمول ایران کے معاملے پر۔ جنرل کین یہ توازن ٹرمپ کے اعلی فوجی مشیر کے طور پر اپنے ایک سالہ دور میں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیںیعنی ایک غیر متوقع مزاج والے صدر کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنا اور ساتھ ہی پیشہ ورانہ فوجی رہنمائی فراہم کرنا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کین ٹرمپ کے ساتھ کافی پر اعتماد نہیں رہے ۔ کین کے ٹرمپ کے ساتھ روابط سے واقف ایک ذریعہ نے بتایاکہ وہ یقینا نرمی برت رہے ہیں، جب ان کی وائٹ ہائوس کی گفتگو کا موازنہ فوجی رہنمائوں کے ساتھ ان کی نجی بات چیت سے کیا گیا۔ داخلی طور پر اٹھائے گئے خدشات کے باوجود، پچھلے ایک ماہ کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ میں عراق پر حملے کے بعد سے امریکی فوجی ساز و سامان کا سب سے بڑا مجموعہ تشکیل کرنے کی قیادت کی ہے۔
جوائنٹ اسٹاف کے ترجمان جو ہولسٹیڈ نے سی این این کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ کین فوجی آپشنز پر بحث کرتے ہوئے کبھی “نرمی نہیں برتتے” جن سے فوجیوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہو۔انہوں نے کہاکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کا کردار صدر، وزیرِ جنگ اور قومی سلامتی کونسل کو فوجی مشورہ دینے کے قانونی فریضے پر مبنی ہے۔ چیئرمین ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رہنماں کو فوجی آپشنز کا مکمل مجموعہ فراہم کرتے ہیں، اور ہر آپشن سے وابستہ ثانوی اثرات، مضمرات اور خطرات پر دقیق غور و فکر پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کام رازداری کے ساتھ کرتے ہیں۔
سابق ایف سولہ پائلٹ ،جنرل کین، سی آئی اے (CIA) میں ملٹری لائژن کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، شاذ و نادر ہی کسی پالیسی پر اپنی ذاتی رائے ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ وہی کر رہے ہیں جو ایک چیئرمین کو کرنا چاہیے یعنی صدر کو بہترین فوجی مشورہ دینا جو ان کے ایجنڈے میں معاون ہو، کیونکہ ملک کا اعلی جنرل پالیسیاں طے کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے کئی ہفتوں سے کین پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ فوجی منصوبوں کی ایک وسیع رینج تیار کریں، جس میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں سے لے کر حکومت کی تبدیلی (regime change)کے لیے ایران کی اعلی قیادت کو ختم کرنا تک شامل ہے۔ یہ منصوبے سفارتی مذاکرات کے متوازی تیار کیے جا رہے ہیں ۔ لیکن پچھلے ہفتے ایران کے بارے میں سچویشن روم کی ایک میٹنگ میں، جو مقررہ وقت سے تین گنا زیادہ طویل رہی، ذرائع کے مطابق کین یہ پیش گوئی کرنے میں ناکام رہے کہ حکومت کی تبدیلی کے آپریشن کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ کین چند ماہ قبل وینزویلا میں اس طرح کے مشن کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پراعتماد دکھائی دیے تھے، جہاں جنوری میں ایک فوری اور فیصلہ کن کارروائی میں وہاں کے رہنما کو امریکی فوج نے پکڑ لیا تھا۔
یہ کین کی نازک حکمت عملی کا حصہ ہے؛ وہ نجی طور پر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ ملک کے اعلیٰ جنرل کے عہدے اور مجموعی طور پر فوج پر اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ نے ان دونوں کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ اس کہانی پر سوالات کے جواب میں، وائٹ ہائوس کی ترجمان انا کیلی نے کین کو ایک انتہائی معزز پیشہ ور سپاہی قرار دیا جن کا کام کمانڈر ان چیف کو غیر جانبدارانہ معلومات فراہم کرنا ہے اورجسے وہ بخوبی ادا کر رہے ہیں۔
کیلی نے کہاکہ کوئی بھی یہ تجویز کہ چیئرمین اپنی ذاتی یا سیاسی رائے دے رہے ہیں، بالکل غلط ہے۔ تمام معاملات پر، صدر ٹرمپ اپنی قومی سلامتی ٹیم کے تمام ارکان کا فیڈ بیک سنتے ہیں، اور حتمی فیصلہ ساز ہمیشہ وہی ہوتے ہیں۔
کین نے چیئرمین کی حیثیت سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے کہ ٹرمپ ان کی بات سنیں۔ ایک موقع پر تو انہوں نے وائٹ ہائوس میں ایک دفتر حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تاکہ وہ صدر کو زیادہ باقاعدگی سے بریفنگ دے سکیں اور وہاں قیام کے دوران کام کرنے کے لیے ایک محفوظ جگہ میسر ہو۔
کین ایک دھیمے لہجے والے اور منکسر المزاج فضائی فوجی ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر کا بڑا حصہ جاسوسوں اور اسپیشل آپریٹرز کی خفیہ دنیا میں گزارا ہے۔ وہ ٹرمپ کے قابلِ اعتماد اندرونی حلقے کے رکن ہیں، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہائوس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز شامل ہیں۔ کین اور ٹرمپ کے تعلقات سے واقف متعدد افراد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کین پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، خاص طور پر جب بات حساس آپریشنل معاملات کی ہو۔ اگر ہیگستھ کین سے نالاں بھی ہیں، تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایک واقف کار نے بتایاکہ کین کا ٹرمپ سے براہ راست رابطہ ہے، ہیگستھ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔
جب ایران میں ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کے اثرات کے بارے میں پینٹاگون کے خدشات پریس تک پہنچنے لگے، تو ٹرمپ نے گذشتہ دنوں سوشل میڈیا کا سہارا لیا تاکہ کین پر اپنے اعتماد کا اعادہ کریں اور یہ واضح کریں کہ ان کی ہفتوں سے جاری حملوں کی دھمکیاں کھوکھلی نہیں تھیں۔
ٹرمپ نے لکھاکہ جنرل کین، ہم سب کی طرح، جنگ نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن اگر ایران کے خلاف فوجی سطح پر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے، تو ان کی رائے میں یہ آسانی سے جیتی جانے والی جنگ ہوگی۔ وہ صرف ایک چیز جانتے ہیں، وہ ہے جیت، اور اگر انہیں حکم دیا گیا تو وہ ہراول دستے کی قیادت کریں گے۔
جب کین کی ایران پر مشاورت کے بارے میں پوچھا گیا تو ہولسٹیڈ نے کہا کہ کین کسی ایک عمل کی وکالت نہیں کرتے، اور نہ آپریشنل مباحثوں میں اپنی ذاتی پسند شامل کرتے ہیں۔حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک سینئر افسر، جنہوں نے پہلے کین کے ساتھ کام کیا تھا، نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ افسران حیران تھے کہ انہیں منتخب ہی کیوں کیا گیا، جب ٹرمپ کی جانب سے ظاہر ہے کہ وفاداری کی کچھ توقع تھی، اور کین اس قسم کے انسان نہیں جو ایک افسر کے طور پر اپنے حلف پر وفاداری کو ترجیح دیں۔اس سابق افسر نے کہاکہ کین اعلی جذباتی ذہانت کے مالک ہیں، وہ کسی کے ساتھ الجھے نہیں اور عام طور پر انہیں ایک ٹیم پلیئرکے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
کین کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے سادہ لفظوں میں کہاکہ کین اتنے عرصے تک کیسے ٹک گئے؟ وہ کسی بھی ماحول میں خود کو وہ شخص بنانے کے ماہر ہیں جس کی دوسرے کو ضرورت ہوتی ہے۔
گزشتہ ستمبر میں، جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اچانک سینکڑوں اعلی امریکی فوجی افسران کو ٹرمپ کا خطاب سننے کے لیے ورجینیا طلب کیا، تو کین جانتے تھے کہ اس تقریب کے گہرے سیاسی رنگ اختیار کرنے کا خدشہ ہے ایک ایسی چیز جس کے خلاف انہوں نے اپنی توثیقی سماعتوں کے دوران کانگریس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سے باز رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق، کین نے نجی طور پر جمع شدہ جرنیلوں اور ایڈمرلز کو ایسی نصیحت کی جو وہ جانتے تھے کہ ہیگستھ اور ٹرمپ کو پسند نہیں آئے گی۔ ان کی گفتگو سے واقف دو فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کین نے ہدایت دی تھی کہ نہ تالیاں بجائیں، نہ کوئی ردعمل دیں، اور بالکل ویسے ہی باوقار اور خاموش رہیں جیسے آپ صدر کے سالانہ ‘اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ہوتے ہیں، تاکہ فوج کے غیر جانبدارانہ اصولوں کی پاسداری ہو سکے۔ اس کے بعد انہوں نے ہیگستھ اور ٹرمپ کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ انہیں سننا نہایت ضروری ہے۔
اس کے بعد، ٹرمپ جرنیلوں کی جانب سے کوئی ردعمل نہ ہونے پر برہم نظر آئے۔ انہوں نے کہاکہ میں اس سے پہلے کبھی اتنے خاموش کمرے میں نہیں آیا۔ اگر آپ تالیاں بجانا چاہتے ہیں، تو بجائیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ٹرمپ کی تقریر سے پہلے کین کے اس رویے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ان عظیم رہنمائوں کے درمیان کوئی تنا ئونہیں ۔ وہ دونوں متفق ہیں اور صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں کہ ہماری فوج کو دنیا کی عظیم ترین جنگی قوت بنایا جائے۔
ملک کے اعلیٰ ترین جنرل بننے اور ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے تک کین کا سفر انتہائی غیر معمولی رہا ہے۔ وہ دسمبر 2024میں تھری سٹار لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے، لیکن ٹرمپ نے انہیں دوبارہ فعال سروس میں بلا لیا، باوجود اس کے کہ انہوں نے کبھی کسی کمبیٹنٹ کمانڈکی سربراہی نہیں کی تھی اور نہ کسی سروس چیف کے طور پر کام کیا تھا۔ ماضی کے زیادہ تر چیئرمینوں نے اسی راستے سے اپنا چوتھا ستارہ (فور سٹار رینک) حاصل کیا تھا۔ بالآخر، کین کو 38 فور سٹار جرنیلوں اور ایڈمرلز پر فوقیت دے کر ترقی دی گئی۔
ٹرمپ کے بقول، کین نے صدر کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت تب دیا تھا جب وہ پہلی بار 2018میں عراق میں ملے تھے۔ وہاں کین نے(ٹرمپ کے مطابق) ‘MAGA’ ٹوپی پہن کر ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے لیے جان لے بھی سکتے ہیں۔
گزشتہ سال اپنی توثیقی سماعت کے دوران کین نے کہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج کو سیاست سے بچانے کا آغاز اعلی ٰسطح پر اچھی مثال قائم کرنے سے ہوتا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے سے کہ ہم غیر جانبدار اور غیر سیاسی رہیں اور روزانہ اقتدار کے سامنے سچ بولیں۔اس کے باوجود، جب ٹرمپ نے امریکی فوج کی تعیناتی کی قانونی حدود کو چیلنج کیاجیسے گورنرز کی مخالفت کے باوجود امریکی شہروں میں فوج بھیجنا، کیریبین اور بحر الکاہل میں منشیات کے اسمگلروں پر بمباری ، اور کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران اور وینزویلا پر حملہ تو کین نے فرض شناسی کے ساتھ انہیں ان کارروائیوں کے لیے آپشنز فراہم کیے۔
ریپبلکن کانگریس کے ایک معاون نے کہاکہ ملی ہمیشہ خود کو کمرے میں موجود واحد سمجھدار شخص کے طور پر دکھانا چاہتے تھے جو دنیا کو ہمارے جمہوری طور پر منتخب صدر سے بچا رہا ہو۔ یہ مجھے انتہائی نامناسب لگا۔
ذرائع کے مطابق، کین ٹرمپ انتظامیہ کی ایک انتہائی متنازع شخصیت، پالیسی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں کہ کس طرح امریکہ کے اندر اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی آپریشنز کو بہترین طریقے سے انجام دیا جائے۔ ملر اکثر براہ راست کین کو فون کرتے ہیں اور کسی منصوبے پر عمل درآمد کے طریقے پوچھتے ہیں۔
کین کی یہ حکمت عملی کہ وہ صرف آپشنز فراہم کرتے ہیں اور فیصلے مسلط نہیں کرتے، اس طریقے کے بالکل برعکس ہے جس طرح اب ٹرمپ ملی کو دیکھتے ہیں۔ ملی کی تصویر انتظامیہ کے پہلے ہی دن پینٹاگون کی دیوار سے ہٹا دی گئی تھی اور ٹرمپ کے حکم پر ہیگستھ نے چند دن بعد ان کی سیکیورٹی بھی ختم کر دی تھی۔ دفاعی حکام کین کو ہیگستھ کے مقابلے میں ایک مفید توازن کے طور پر دیکھتے ہیں، کیونکہ ہیگستھ کی بے تجربہ کاری اور کلچر وار(ثقافتی جنگ)کے مسائل پر توجہ کے مقابلے میں کین کے پاس طویل فوجی کیریئر اور آپریشنل تجربہ ہے۔
حکام ایک مثال ستمبر کی دیتے ہیں، جب کین نے ہیگستھ اور پینٹاگون کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی کو دستی طور پر میمو (Memos)پہنچائے، جن میں انہوں نے کولبی کے دفتر سے تیار کردہ نئی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی سے اپنے اختلافات کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، کین کو اس دستاویز پر یہ اعتراض تھا کہ اس میں وطن کے دفاع اور مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere)کو ترجیح دی گئی ہے، چین سے لاحق خطرات اور انڈو پیسیفک میں مستقبل کے ممکنہ تصادم کے لیے امریکی فوج کی تیاری کی ضرورت کو کم اہمیت دی گئی ہے۔
ایک سینئر دفاعی اہلکار نے اس بات کی تصدیق سے انکار کیا کہ کین نے اس حکمت عملی پر اعتراضات اٹھائے تھے، لیکن کہا کہ اگر ایسے واقعات ہوئے بھی ہیں، تو یہ صرف ایک چیئرمین اور جوائنٹ چیفس کی جانب سے اپنا فرض نبھانے کی مثالیں ہوں گی۔
کین شروع میں یمنی ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف اس انتہائی مہنگی مہم کی نتیجہ خیزی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا شکار تھے، جس کی حمایت ہیگستھ کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق، انہوں نے آخر کار ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ اس مہم کو ختم کیا جائے، اور اس کے فورا ًبعد صدر نے اعلان کیا کہ امریکہ نے حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس کے باوجود، بعض معاملات پر کین کی اپنی رائے دینے میں ہچکچاہٹ نے کئی فوجی حکام کو الجھن میں ڈال دیا ہے کہ وہ اصل میں کس طرف
کھڑے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ اور ہیگستھ سے اختلاف کرنے والے متعدد سینئر فوجی حکام کو زبردستی نکالا جا چکا ہے۔
گزشتہ موسم خزاں میں، ہیگستھ نے اس وقت کے یو ایس سدرن کمانڈ (SOUTHCOM)کے کمانڈر ایڈمرل ایلوِن ہولسی کو اپنے اور کین کے ساتھ ایک میٹنگ میں بلایا۔ یہ میٹنگ کافی کشیدہ تھی ۔ہیگستھ کا خیال تھا کہ ہولسی کیریبین میں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف کافی تیزی یا جارحیت سے کام نہیں کر رہے، اور انہوں نے شکایت کی کہ انہیں آپریشنز کے بارے میں مطلوبہ معلومات نہیں دی جا رہی ہیں۔ لیکن سائوتھ کام (SOUTHCOM)کو ان آپریشنز کے قانونی ہونے کے بارے میں خدشات تھے۔ ذرائع کے مطابق، کین اس میٹنگ کے دوران زیادہ تر خاموش رہے۔ بالآخر، ہیگستھ نے ہولسی کو نکال دیا، جنہوں نے اپنی کمانڈ کے صرف ایک سال بعد ہی قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ لیکن کین نے اپنے توازن برقرار رکھنے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے ہولسی کی ریٹائرمنٹ کی تقریب کی صدارت کی اور ان کی جم کر تعریف کی، جسے بعض حکام نے ہیگستھ کے فیصلے کے خلاف ایک خاموش احتجاج کے طور پر دیکھا۔
کین نے تقریب میں ہولسی کے بارے میں کہا،کہ یہ کبھی آپ کی اپنی ذات کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ہمیشہ لوگوں اور دوسروں کے بارے میں تھا۔ ہماری تمام گفتگو میں آپ نے کبھی میںنہیں کہا، آپ نے ہمیشہ ہم کہا۔ آپ کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔