بنوں میں نماز تراویح کے اجتماع پر دہشتگردوں کا دھاوا، 3 بھائی اغوا
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے سکاری حسن خیل علاقے میں دہشت گردوں نے مسجد سے نماز تراویح کے دوران سرکاری اہلکار تین بھائیوں کو اغوا کر لیا۔
یہ واقعہ رمضان المبارک کے دوران دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے دوران پیش آیا ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب
10 سے 15 افراد پر مشتمل فتنہ الخوارج کے گروہ نے تراویح کی نماز کے دوران مسجد پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود نمازیوں کے سامنے تین بھائیوں کو اغوا کر لیا۔
اغوا ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک کمپیوٹر آپریٹر جو کمشنر آفس میں خدمات انجام دے رہا تھا شامل ہے۔ دونوں پولیس اہلکار غیر مسلح تھے۔ واقعہ کے وقت لوگ عبادت میں مشغول تھے، جس سے مذہبی مقام کی حرمت پامال ہونے پر عوامی غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔
سکیورٹی فورسز اور پولیس نے اغوا شدگان کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم صوبائی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کے تیزی سے بگڑنے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
اس سے پہلے بدھ کے روز ہی افطار کے وقت باجوڑ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ابابیل اسکواڈ کے چار اہلکار شہید ہوگئے۔
دوسری جانب سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 34 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔