گجرات کا قصائی اور غزہ کا جنگی مجرم بغل گیر
نریندرمودی اور نیتن یاہو کے بغل گیر ہونے پر بھارتی تجزیہ کار اشوک سوائن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔
اپسالایونیورسٹی ،سویڈن میں استاد اشوک نے بھارتی وزیراعظم اور ان کے اسرائیلی ہم منصب کے بغل گیر ہونے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور لکھا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں، ایک کوگجرات میں 2 دن کے اندر 2000 مسلمانوں کو قتل کرنے پر دس سال کے لیے یورپ اور امریکا میں داخلے کا ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اور دوسرے کے پاس غزہ میں 75 ہزارفلسطینیوں کو قتل کرنے میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر عالمی عدالت کے وارنٹ گرفتاری ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ماریان الیگزینڈر بیبی نے ایکس پر کہا کہ مودی کا اسرائیل کو گلے لگانا بھارت کی استعمار مخالف وراثت اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں ہمارے دیرینہ موقف کے ساتھ غداری ہے، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی ان قراردادوں سے ہوتی ہے جن کا بھارت شریک سپانسر رہا اور جن کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
واضح رہے کہ نریندرمودی دوروزہ دور ے پر تل ابیب پہنچے تھے۔ائرپورٹ پرمیزبان وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کا استقبال کیا۔
یادرہے کہ 2002 کے گجرات فسادات میںمسلمانوں کا قتل عام کرانے پر مودی کو گجرات کا قصائی کے نام سے پکاراجانے لگا۔ فروری اور مارچ 2002ء میں ہونے والے یہ فرقہ وارانہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب گودھرا ریل آتشزدگی سے 59 انتہاپسند ہندو ہلاک ہو گئے۔ اس کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا اور گجرات میں مسلمانوں کے خلاف یہ فسادات ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت پر کیے گئے۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی۔ اس میں تقریباً 2500 مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری اورہزاروں مسلمان بے گھر ہوئے تھے۔ان فسادات کو روکنے کے لیے پولیس نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ بلکہ اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی نے اس قتل و غارت کی سرپرستی کی۔
فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے والے نیتن یاہوکو بھی غزہ کا قصاب کہا جاتاہے۔