عورت مارچ کے پوسٹر میں تحفظ مذہب سمیت پاکستانی قوانین پر حملہ
عورت مارچ 2026 کا ایجنڈااور پوسٹر جاری ہواہے جس میں دینی شعائرسے منسلک اوردیگر پاکستانی قوانین پر حملہ کیا گیاہے۔
سوشل میڈیاپر مارچ کے پوسٹرکی تصویر کے ساتھ لکھاہے کہ اس سال ہم صرف مارچ نہیں کر رہے، بلکہ ہم(قانون) دوبارہ لکھ رہے ہیں۔اگر آئین سب کو برابری کا تحفظ فراہم کرتا ہےتو ہم میں سے کچھ اب بھی اس کے اندر بحفاظت رہنے کے لیے جدوجہد کیوں کر رہے ہیں؟ آئین اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کسے تحفظ ملے گا، کس کی بات سنی جائے گی اور کسے مٹا دیا جائے گا۔ اور جب خواتین، ٹرانس جینڈر افراد اور اقلیتوں کو ذہن میں رکھے بغیر قوانین لکھے جائیں، تو عدم مساوات قانونی بن جاتی ہے۔ 2026 کے لیے، عورت مارچ اسلام آباد یہ سوال کرتا ہے: اگر پاکستان کا آئین حقوقِ نسواں (فیمینسٹ) کے نکتہ نظر سے لکھا جاتا تو پاکستان کیسا نظر آتا؟
’’پاکستان کے آئین کی نسوانی تشکیل‘‘ (The Feminisation of the Constitution of Pakistan) ان امتیازی شقوں، تحفظ کی کمی اور ان قوانین کا جائزہ لیتی ہے جو خواتین، ٹرانس کمیونٹیز اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عورت مارچ کا نیا بیانیہ،پوسٹرپر چھاپی گئی تصاویرسے واضح ہوتاہے جن میں اسلامی طرزتعمیرکی اہم شناخت گنبد اورمحرابیں نمایاں ہیں۔اس کے علاوہ سر اورجسم ڈھانپنے کی بے پردگی کو فوقیت ظاہرکرتی ایک خاتون کی تصویراس پوسٹرپر غالب ہے جس نے آستینیں اوپر چڑھائی ہوئی ہیں ،اور لباس پر دیگر عبادت گاہوں کی منظرکشی ہے،اس کے سامنے ، حجاب ، کشمیری رومال اور متعلقہ علاقائی روایات کے مطابق رائج ٹوپیاں پہنے خواتین کوبیٹھے ہوئے دکھایاگیاہے۔اس منظرسے یہ پیغام دیاگیاہے کہ آزادخیال عورت کے زیرقیادت پاکستانی معاشرے میں دینی ، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کی حامل خواتین ، ان ضابطوں کو’’ فیمنسٹ دستور‘‘ کے طورپردوبارہ لکھ رہی ہیں جنہیں اسلام اور پاکستان کا اسلامی دستور پہلے ہی طے کرچکاہے ۔یہ گویا دینی ،آئینی اور معاشرتی ضابطوں سے بغاوت کا اعلان ہے۔
پوسٹرپر کچھ نعرے پرنٹ ہیں جن میں ناموس رسالت ، حدود آرڈی نینس، قانون شہادت سمیت دیگر قوانین کی مخالفت پرمبنی کلمات درج ہیں۔پیکاایکٹ بھی ان میں شامل ہے۔
عورت مارچ پوسٹرکے ذریعے ملکی قوانین اور آئین پر امتیازی ہونے اور، تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا گیاہے۔’’آئین کی نسوانی تشکیل ‘‘ کی اصطلاح بجائے خود باغیانہ اور توہین آمیزپہلوسامنے لاتی ہے۔دنیابھرکی طرح پاکستان کا آئین اور اس کے تحت قانون سازی میں ہرطبقہ زندگی کے لیے رائج سماجی اور تہذیبی اقدارکے مطابق مناسب اور جامع نمائندگی وتحفظ موجو دہے۔ لیکن عورت مارچ کے نئے ایجنڈے پر موجود نظریات اس امرسے متصادم نظر آتے ہیں۔
پاکستان میں گذشتہ کچھ سال سے عورت مارچ نامی یہ سرگرمی عالمی یوم خواتین کے موقع پر منظم ہورہی ہے ۔اب تک اس میں نامناسب نعروں اورغیر اخلاقی مطالبات کا دور دورہ رہا لیکن اس بار جوتھیم لائی جارہی ہے اس میںمذہبی و ریاستی اظہاریہ کے خلاف اورحقائق کے منافی سنگین اشارے موجودہیں۔