10روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی تجویز پر غور

February 26, 2026 · قومی

اسلام آباد: ملک میں رائج 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کر کے اس کی جگہ سکہ متعارف کرانے سے متعلق حکومتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ سے متعلق اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ سفارشات اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے قوانین کے تحت مرتب کی گئی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 10 روپے کے نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے، جبکہ اسی مالیت کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک میں ہر سال چھاپے جانے والے مجموعی کرنسی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے باعث چھپائی اور تبدیلی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

کمیٹی کے مطابق اگر 10 روپے کا سکہ متعارف کرایا جاتا ہے تو آئندہ 10 برسوں میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، کیونکہ 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی، ترسیل اور انتظامی اخراجات کا سالانہ تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے کے درمیان ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ سکہ تیار کرنے کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، تاہم اس کی طویل المدتی پائیداری کے باعث دہائیوں تک دوبارہ تیاری کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے مجموعی طور پر قومی خزانے پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔