بھارتی پولیس کے پاس’’ہاف انکاؤنٹر‘‘حربہ کیاہے؟اقوام متحدہ ماہرین کا انتباہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں، دورانِ حراست تشدد سے اموات اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے کے الزامات کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائے۔ ماہرین کے مطابق انہیں موصول ہونے والی قابلِ بھروسہ معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بعض ریاستوں میں طاقت کے حد سے زیادہ اور مہلک استعمال کا رجحان وسیع اور منظم صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے بالخصوص مسلمان، دلت اور آدی واسی برادریاں غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ حقِ زندگی، تشدد سے تحفظ اور عدم امتیاز کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔
1997 سے جب قومی انسانی حقوق کمیشن نے پولیس مقابلوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا، ملک بھر میں کم از کم3ہزار584 افراد پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں اتر پردیش1411 ہلاکتوں کے ساتھ سرِفہرست ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2017 سے اپریل 2023 تک ریاست میں 10ہزار900مقابلوں کے دوران 183 افراد مارے گئے،5ہزارسے زائد افراد کو مبینہ طور پر “ہاف انکاؤنٹرز” میں زخمی کیا گیا۔ایک ایسا طریقہ جس میں ملزم کی ٹانگ میں گولی مار کر اسے ناکارہ کیا جاتا ہے۔ پولیس مبینہ مجرموں کو جان لیوا زخم پہنچانے کے بجائے ایسی چوٹیں لگاتی ہے جس سے ان کی جان نہ جائے۔اگست 2025 تک ایسے واقعات کی تعداد تقریباً13 ہزاربتائی گئی، اور گزشتہ سات برسوں میں قریب25 ہزارافراد کی ٹانگوں یا گھٹنوں میں گولیاں مارے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔
اتر پردیش پولیس کی مخصوص اصطلاح میں اسے ہاف فرائی (half fry) کہا جاتا ہے۔ جس طرح پولیس کے پاس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں (فل انکاؤنٹر) کے لیے ایک نظریہ موجود ہے، اسی طرح گھٹنے میں گولی مارنے کے لیے بھی ان کے پاس ایک ایسا ہی جواز ہے؛ یعنی یہ کہ ملزم نے بھاگنے کی کوشش کی اور جب پولیس نے اسے پکڑنا چاہا تو اس نے ان پر حملہ کر دیا۔
2017 میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے، مجرموں کو قابو کرنے کا یہ طریقہ شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا تھا۔ تاہم، گزشتہ سات سال میں تقریباً25ہزارملزمان کی ٹانگوں میں گولیاں ماری گئیں۔ ان میں سے اکثر مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ، عصمت دری، ڈکیتی، چوری، ہنگامہ آرائی، اقدامِ قتل، قتل اور غنڈہ گردی کے مقدمات میں ملوث تھے۔ ریاست میں ہر ہفتے ٹانگ میں گولی مارنے کے کم از کم ایک یا دو واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔
اتر پردیش کے ایک سینیئر کرائم رپورٹر، نول کانت سنہا کہتے ہیں کہ 2017 سے پہلے ایسے صرف چند کیسز سامنے آتے تھے۔ تب فل انکاؤنٹرز (مکمل مقابلے) ہوا کرتے تھے۔ تاہم، اب پولیس نے اپنا رویہ بدل لیا ہے۔ ان کا پہلا مقصد مجرموں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے اس رجحان پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سزا دینا عدالتوں کا اختیار ہے، پولیس کا نہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ کئی کیسز میں سپریم کورٹ کی طے کردہ لازمی حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں ہوا، آزادانہ تحقیقات کا فقدان رہا اور شفافیت پر سوالات اٹھے۔ ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، پولیس مؤقف اختیار کرتی ہے کہ یہ اقدامات جرائم پر قابو پانے کے لیے ضروری ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال بھارت میں نفاذِ قانون، انسانی حقوق اور عدالتی عمل کے باہمی توازن پر ایک سنجیدہ قومی و بین الاقوامی بحث کو جنم دے رہی ہے۔