کوہاٹ میں مریضہ کے مرد ساتھیوں کے ہاتھوں لیڈی ڈاکٹر کا قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی
کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں لیڈی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مہوش حسنین کے لرزہ خیز قتل نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا ہے۔ فرائض کی ادائیگی کے بعد گھر واپس ہوئے ڈاکٹر کو سرِ عام گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے ہسپتالوں میں تالہ بندی کر دی ہے اور حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 23 فروری 2026 کو ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال کوہاٹ میں تعینات ڈاکٹر مہوش حسنین اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گاڑی میں گھر جا رہی تھیں۔ کے ڈی اے (KDA) ڈبل روڈ پر گھات لگائے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ڈاکٹر مہوش کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
ڈاکٹر مہوش حسنین ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ میں میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ وہ ایک پیشہ ور خاتون ڈاکٹر تھیں جنہوں نے خواتین وارڈ میں مریضوں کی پرائیویسی اور احترام کو ترجیح دی۔ وہ راجن پور سے تعلق رکھتی تھیں اور شادی کے بعد کوہاٹ آئی تھیں۔ وہ چار بچوں (بعض رپورٹس کے مطابق تین) کی ماں تھیں۔ ان کا قتل نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری طبی برادری کے لیے بہت بڑا صدمہ بنا۔قتل کیسے اور کیوں ہوا؟واقعے کی تفصیلات کے مطابق:ڈاکٹر مہوش شام/افطار کے بعد ڈیوٹی ختم کر کے رکشے میں گھر جا رہی تھیں۔
ہسپتال سے تھوڑی ہی دوری پر موٹر سائیکل سوار دو حملہ آوروں نے ان کا راستہ روکا اور قریب سے فائرنگ کر دی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر 6 سے 7 گولیاں لگیں، زیادہ تر ہاتھوں، سینے اور پیٹ میں۔ دل، پھیپھڑے، جگر اور گردے سمیت اہم اعضا شدید متاثر ہوئے۔
مقتولہ کے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کو فرانزک لیب بھجوا دیا گیا ہے۔
گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور ہسپتال ذرائع کے مطابق، اس قتل کے پیچھے ذاتی دشمنی کے بجائے دورانِ ڈیوٹی پیش آنے والا ایک تلخ واقعہ نظر آتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کچھ روز قبل ہسپتال میں ایک مریضہ کے شوہر کے ساتھ ڈاکٹر مہوش کی تکرار ہوئی تھی، جس کے بعد مذکورہ شخص کو پولیس کے حوالے بھی کیا گیا تھا۔
ڈی پی او کوہاٹ شہباز الہٰی کا کہنا ہے کہ پولیس نے سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کی شناخت کر لی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر مہوش کے قتل پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
احتجاجاً کوہاٹ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی سروسز معطل کر دی گئی ہیں، جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک “ہیلتھ کیئر پروٹیکشن ایکٹ” پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا اور ڈاکٹروں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی، وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے رہیں گے۔