شاہراہ قراقرم پر برفانی چیتے کا مٹرگشت۔ نایاب لمحہ وڈیو میں قید
برفانی چیتے کو گوجال ہنزہ کے گائوں خیبر،میں شاہراہ قراقرم پر چلتے ہوئے دیکھاگیا ۔جریدہ ” پامیرٹائمز” کے مطابق پہاڑوں کے سب سے شاندار شکاری کی ایک نادر جھلک وڈیوپر محفوظ ہوگئی۔
مزید پڑھیں:https://www.facebook.com/reel/908283465243801
اسی علاقے میں ،رواں ماہ کے آغازپر،دو برفانی تیندوے رات کے وقت گاوں میں گھومتے رہے،یہ نادرلمحات بھی کیمرے میں قید ہوئے ۔محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ،علاقے میں، مقامی کمیونٹی کی درخواست پر اے آئی کیمرہ ٹریپس کو عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا تاکہ جاری واٹر چینل کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کے کام کو آسان بنایا جا سکے۔واقعے کے بعد، جی بی پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور SKIDO کی مدد سے کیمروں کو دوبارہ انسٹال کیا گیا اور برفانی چیتے کی موجودگی کی تصدیق کی، جس سے ہمیں نقل و حرکت کے انداز اور خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
چندروزقبل ،بونی گول اپرچترال میں مقامی شکاری نے برفانی چیتے کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔اپر چترال(چمرکھن ) بونی سے تعلق رکھنے والے شکاری شکیل حسین کے مطابق انہوں نے پیر کی سہ پہر بونی گول کے پہاڑی علاقے میں برفانی چیتے کو ایک ریوڑ پر حملہ کرتے دیکھا۔
شکیل حسین ٹرافی ہنٹنگ کے لیے آئی بیکس کی تلاش میں تھے کہ تقریبا ساڑھے چار بجے انہیں ایک برفانی چیتا نظر آیا جو پہاڑی ڈھلوان پر موجود آئی بیکس کے ریوڑ پر جھپٹا۔ ان کے بقول اس موقع پر بونی گول کے وائلڈ لائف واچر علی نواز اور کمیونٹی واچر یوسف علی شاہ بھی موجود تھے۔ اپنے دو ساتھیوں سمیت اس منظر کے عینی شاہد رہے۔انہوں نے بتایا کہ چیتا کافی فاصلے پر تھا، جس کے باعث اس واقعے کی ویڈیو بنانا ممکن نہ ہو سکا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ برفانی چیتے کو اپنے قدرتی ماحول میں شکار کرتے دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔
برفانی چیتا دنیا بھر میں نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ چترال اور گرد و نواح کے پہاڑی سلسلے اس نایاب جانور کے قدرتی مسکن تصور کیے جاتے ہیں۔