فریقین قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرنے لگے

February 27, 2026 · قومی

پاک افغان کشیدہ صورتحال پر دونوں جانب کے سرکاری ترجمان اب قرآن مجید کی آیات کو ایک دوسرے کے فوجی اقدامات کی توثیق اور جوابی کارروائی کے لیے دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے X پر ایک پوسٹ میں سورۃ الانفال کی آیت نمبر 17 کا حوالہ دیا:”وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ”انہوں نے لکھا کہ پاکستانی فوجی حلقوں کی بار بار کی خلاف ورزیوں اور حملوں کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیبات پر “وسیع پیمانے پر حملے” شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعا بھی کی: “اللہم انصر المجاهدین فی کل مکان!
اس کے فوری جواب میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی X پر قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیات 33-34 پیش کیں:”إِنَّمَا جَزَ ٰ⁠ۤؤُا۟ ٱلَّذِینَ یُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَیَسۡعَوۡنَ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن یُقَتَّلُوۤا۟ أَوۡ یُصَلَّبُوۤا۟ أَوۡ تُقَطَّعَ أَیۡدِیهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَـٰفٍ أَوۡ یُنفَوۡا۟ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَ ٰ⁠لِكَ لَهُمۡ خِزۡیࣱ فِی ٱلدُّنۡیَاۖ وَلَهُمۡ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ﴿٣٣﴾
إِلَّا ٱلَّذِینَ تَابُوا۟ مِن قَبۡلِ أَن تَقۡدِرُوا۟ عَلَیۡهِمۡۖ فَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴿٣٤﴾”
عطا تارڑ نے اردو ترجمہ بھی لکھا “جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انہیں زمین سے جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
بجز ان لوگوں کے جو تمہارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں، تو جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
حوالوں کا تبادلہ اس وقت سامنے آیا جب 26 فروری کی رات افغان فورسز نے پاکستان کے سرحدی پوسٹوں پر حملے کیے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے مختلف علاقوں پر بھی فضائی حملے کیے۔