پاک افغان لڑائی رکوانے کیلئے سعودی عرب اور ایران متحرک
سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان سے متعلق خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ پر علیحدہ علیحدہ بیانات اور رابطے کیے ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’خطے کی صورتحال‘ اور ’کشیدگی کم کرنے کے طریقوں‘ پر تبادلہ خیال ہوا۔ سعودی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان چند گھنٹے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا گیا۔ اسحاق ڈار اس وقت سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ماہِ مبارک رمضان، جو ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کو مضبوط کرنے کا مہینہ ہے، اس موقع پر افغانستان اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ موجودہ اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی کے دائرے میں اور مکالمے کے ذریعے حل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہر ممکن تعاون کے لیے آمادہ ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو آسان بنایا جا سکے اور باہمی تفاہم و تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ ایران اس سے قبل بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی کے دوران ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے۔