133 ہلاکتوں کے بعد افغان طالبان نے سرحدی چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیئے
پاکستانی مسلح افواج کی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے بعد افغان طالبان نے سرحدی چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیئے ہیں جب کہ طالبان کی وزارت دفاع کے ایک بیان میں رات 12 بجے سے لڑائی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثر انداز میں جواب دیتے ہوئے پاک افغان سرحد پر متعدد اہم پوسٹس کو تباہ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کے بعد افغان طالبان نے کئی مقامات پر سفید جھنڈے بھی لہرائے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی پوزیشنز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹرز کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
پاکستان کی جانب سے لڑائی روکنے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ تاہم طالبان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوجی چوکیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں چیف آف آرمی اسٹاف فصیح الدین فطرت کے حکم پر رات بارہ بجے ختم کر دی گئیں۔
بیان میں 8 طالبان اہلکار مارے جانے کی تصدیق کی گئی۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تورخم میں واپسی کرنے والوں کے عارضی کیمپ پر پاکستانی فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نصف شب کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم فورا ہی یہ واپس لے لیا گیا اور ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی۔
افغان طالبان کے ترجمان کے اکاؤنٹ سے کابل، قندھار اور پکیتا میں پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستانی سیکورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں پاکستان نے طالبان کے ایک کور ہیڈکوارٹرز، ایک اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک بیس اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا ہے۔
پکتیا میں بھی طالبان کے کور ہیڈکوارٹرز کو فضائی حملے میں تباہ کردیا گیا۔ اس سے پہلے کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پاک افغان سرحد پر بھی افغان فورسز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
آپریشن “غضب الحق” انفوگرافک: طالبان کا کتنا نقصان ہوا
بظاہر جمعہ کی صبح لڑائی میں کمی آگئی ہے۔ بی بی سی کے ایک رپورٹر نے کابل، قندھار اور ننگرہار کے رہائشیوں اور مقامی حکام سے گفتگو کے بعد بتایا کہ صورتحال اب نسبتاً پرسکون دکھائی دیتی ہے، اگرچہ سرحد کے دونوں اطراف ہائی الرٹ برقرار ہے۔ کابل میں صبح کے وقت شہریوں کا کہنا ہے کہ اب طیاروں کی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں اور شہر میں قدرے سکون ہے۔ بی بی سی کے مطابق قندھار اور پکتیا میں ہونے والی کارروائیوں کے حوالے سے اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔