بھارتی ریاست راجھستان میں مسلمان خواتین سے امتیازی سلوک ہونے کے بعد یک جہتی کامظاہرہ
ٹونک، راجستھان کے ایک گاؤں کریڈا بزرگ میں کمبلوں کی تقسیم کا ایک پروگرام اس وقت بڑے سیاسی اور سماجی تنازع میں تبدیل ہو گیا جب سکھبیر سنگھ جوناپوریا پر مسلمان خواتین سے امتیازی سلوک کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ جوناپوریا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ اور ٹونک،سوائی مادھوپور سے دو بار رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے ہیں، ایک نجی فلاحی پروگرام کے تحت ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کر رہے تھے۔
دیہاتیوں کے مطابق تقسیم کے دوران بعض مسلمان خواتین سے ان کے نام اور مذہب کے بارے میں پوچھا گیا، انہیں الگ بٹھایا گیا اور مبینہ طور پر کمبل دینے سے انکار کر دیا گیا۔ کچھ مقامی افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جو کمبل پہلے دیے جا چکے تھے وہ واپس لے لیے گئے۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا اور گاؤں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
احتجاجاً ہندو خواتین سمیت متعدد دیہاتیوں نے تقریب میں ملنے والے کمبل اور مٹھائیاں واپس کر دیں اور اعلان کیا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی جانے والی امداد قبول نہیں کریں گے۔ گاؤں کے چوک میں مظاہرہ کیا گیا اور سابق ایم پی کے خلاف نعرے بازی بھی ہوئی۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ان کا گاؤں ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے اور وہ کسی کو بھی مذہبی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سکھبیر سنگھ جوناپوریا نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری نہیں بلکہ ان کی ذاتی کاوش تھی اور انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ امداد کس کو دی جائے۔ انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا، تاہم ناقدین نے ان کے مؤقف کو امتیازی رویے کا جواز قرار دیا۔
معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا۔اپوزیشن جماعت کانگریس کے مقامی رہنماؤں نے نیوائی میں احتجاج کیا، ٹونک کے رکنِ پارلیمنٹ نریش مینا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے اور ایسی سوچ ریاست کی نمائندگی نہیں کرتی۔
بعد ازاں، مقامی رہنماؤں اور رہائشیوں نے ردِعمل کے طور پر کمبلوں کی تقسیم کے لیے ایک نئی مہم کا انعقادکیا۔ اس بار انہی مسلمان خواتین کے ذریعے کمبل تقسیم کرائے گئے جنہیں پہلے مبینہ طور پر محروم رکھا گیا تھا۔یوتھ کانگریس کے کچھ کارکنوں نے دگاؤں کریڈا بزرگ جا کر ان خواتین کو کمبل فراہم کیے جنہیں پروگرام سے نکال دیا گیا تھا۔ اس علامتی اقدام کو گاؤں میں اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ عزتِ نفس کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔