کابل کی بے خواب اور خوف بھری رات۔’ کوئی سویا نہیں‘،افغان دارالحکومت پر کیا گزری؟
افغان نژاد اینکر یلدہ حکیم جس وقت پاکستان اور طالبان کی جنگ کے بارے میں خلاف حقیقت اور جھوٹاپراپیگنڈاکرنے میں مصروف تھی ، اس دوران افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت کئی صوبے ایک خوف بھری رات کا مشاہدہ کررہے تھے۔’’ سکائی نیوز‘‘پر کہا گیا کہ افغان فضائیہ نے پاکستان پر حملہ کیا ہے ۔ حالاں کہ افغانستان کے پاس تو فضائی فوج ہی نہیں۔درحقیقت ، اس وقت پاک فضائیہ کے فائٹرجیٹ افغانستان کے اندر ،دورتک جاکر، بم باری کررہے تھے۔جس کے اثرات سےدارالحکومت کابل کے باسیوں نے رات جاگتے ہوئے گزاری۔
کابل کے ضلع 6 کے دشتِ برچی علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ان کے گھر کو ایک دھماکہ ہونے کے باعث شدید جھٹکا لگا۔ ’پہلے ہمیں لگا کہ یہ زلزلہ ہے، کیونکہ چند دن پہلے کابل میں زلزلہ آیا تھا۔ پھر ہم نے ایک زور دار دھماکہ سنا۔کابل کے رہائشی نے مزید بتایا کہ دشتِ برچی کے لوگ فوراً باہر نکل آئے اور ساری رات جاگتے رہے۔اس کے بعد کوئی نہیں سویا۔ سب خوفزدہ تھے۔انھوں نے کہا کہ دھماکے کے کچھ دیر بعد کابل کے اوپر جیٹ طیارے پرواز کرتے نظر آئے۔جب ہم نے اوپر جیٹ دیکھے تو ہمیں اندازہ ہوگیا کہ یہ پاکستانی طیارے ہیں۔ حملے نشانہ بننے والا علاقہ ان کے گھر سے تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر دور تھا۔ ہم سب پوری رات جاگتے رہے۔
کابل کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس نے آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ ایک مقامی رہائشی نے فرانسیسی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پہلے دو ہم سے بہت دور تھے، لیکن آخری ہمارے اتنے قریب تھا کہ اس نے مکان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر دھماکے کے بعد ہم جنگی طیاروں کی آوازیں سن سکتے تھے۔
ننگرہار محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر امین اللہ شریف نے غیرملکی میڈیاکو بتایا کہ رات کے تقریباً تین بجے، نو زخمی افراد کو ننگرہار ریجنل سپیشلائزیشن ہسپتال لایا گیا ۔ چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی اہم ترین چیک پوسٹ کو پاکستانی آرٹلری نے نہایت درستگی سے نشانہ بنایا۔ گولا باری اتنی شدید تھی کہ پوری پوسٹ ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی۔باجوڑ (ناوگئی سیکٹر) میں بھی دشمن کی دو اہم چوکیاں مکمل طور پر نیست و نابود کر دی گئیں۔ پاکستانی جوابی کارروائی کے سامنے خوارج کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اپنے زخمیوں اور اسلحے کو چھوڑ کر پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔
پاکستانی فوج کے حملوںنے طالبان رجیم کی جنگی مشینری کوبری طرح نقصان پہنچایا جس کے بعد افغانستان اور عراق میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں کارروائیوں کا اعلان واپس لیں۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ یہ ایک بھیانک سلسلہ ہے جسے رکنا چاہیے۔