فرانس میں دہشت گردی کے الزام پر سزا پانے والی ایرانی خاتون کون ہے؟

February 27, 2026 · امت خاص

 

فرانس کی ایک عدالت نے ایک ایرانی خاتون کو جیل بھیج دیا ہے، جس کے بارے میں تہران نے اشارہ دیا تھا کہ اسے مبینہ جاسوسی کے الزام پر ایران میں قید دو فرانسیسی شہریوں کے بدلے رہا کیا جا سکتا ہے۔ایرانی شہری مہدیہ اسفندیاری کو شل میڈیا پر دہشت گردی کی ترغیب دینے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی، جس میں سے تین سال کی سزا معطل رہے گی۔ ان پر فرانسیسی حدود میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

 

39 سالہ خاتون کو ان آن لائن تبصروں کی وجہ سے جیل بھیجا گیا جن میں ان پر اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر حملے کو مزاحمتی عمل قرار دینے کا الزام تھا۔ان کے وکیل نے اس سخت سزا کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف رہا ہے کہ فروری 2025 میں فرانس میں گرفتاری کے بعد سے اسفندیاری کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔انہیں مئی 2022 سے ایران میں قید فرانسیسی شہریوں سیسیل کوہلر اور جیک پیرس کی رہائی کے لیے ایک ممکنہ مہرے (bargaining chip) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

اکتوبر میں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دونوں ممالک میں قانونی اور عدالتی طریقہ کار کی تکمیل کے بعد اسفندیاری کو فرانسیسی قیدیوں کے بدلے رہا کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، فرانسیسی حکومت نے ایسے کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی ۔

 

41 سالہ کوہلر اور ان کے 72 سالہ ساتھی پیرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران میں قید آخری فرانسیسی شہری ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، انہیں فرانس اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر طویل قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔صدر ایمانویل میکرون نے نومبر میں کہا تھا کہ اس جوڑے کو تہران کی ایون جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں جلد از جلد فرانس واپس لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

 

فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس وقت بتایا تھا کہ انہیں حتمی رہائی سے قبل ایران میں فرانسیسی سفارت خانے منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم وہ ابھی تک ملک سے روانہ نہیں ہو سکے ہیں۔خاتون کے اہل خانہ نے جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس جوڑے کو ریاستی یرغمالی بنا کر تشدد جیسی صورتحال میں رکھا گیا ہے۔ ایران ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔