اسلام آباد: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف گھیرا تنگ، سمیں بلاک اور مقدمات کا اندراج

February 27, 2026 · قومی
فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اور گردونواح کے اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو تیز کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کے ساتھ ساتھ انہیں پناہ اور روزگار دینے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں وزارت داخلہ، نادرا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سمیت دیگر اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئےاجلاس میں وفاقی دارالحکومت اور ملحقہ اضلاع میں جاری کریک ڈاؤن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو رضاکارانہ واپسی کے عمل کے تحت اپنے ممالک بھجوایا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں، غیر قانونی رہائش فراہم کرنے والے مالکان اور کاروباری سہولت دینے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ قوانین کے تحت خود غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف بھی ایف آئی آرز کا اندراج عمل میں لایا جا رہا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اضلاع کے اعداد و شمار کو وفاقی وزارت داخلہ کے مرکزی ڈیش بورڈ سے منسلک کیا جا رہا ہے اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ ایسے افراد کی سمز بلاک کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

چیف کمشنر نے واضح ہدایت کی کہ کسی بھی غیر قانونی غیر ملکی کو رہائش یا روزگار فراہم نہ کیا جائے اور تمام ادارے باہمی رابطے سے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ حکومت کے احکامات کے مطابق ملک کی سلامتی اور استحکام کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے ۔