افغانستان میں پیٹرولیم ذخائر سمیت 29 اہداف پاک فوج کے غضب کا نشانہ۔ دشمن کی ہلاکتیں 297 ہو گئیں۔ 89 چوکیاں تباہ

February 28, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

پاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد “آپریشن غضب للحق” کے نام سے بھرپور زمینی اور فضائی کارروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اہداف کے حصول تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال جارحیت کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں، خصوصاً ولی خان سیکٹر میں مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے متعدد افغان طالبان پوسٹوں کو تباہ کر دیا ہے۔ کئی چیک پوسٹیں مسمار کی گئیں، بعض پر کنٹرول بھی حاصل کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغانستان میں ایمونیشن ڈپو اور پٹرولیم (پی او ایل) کے بڑے ذخائر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ صوبہ ننگرہار میں افغان طالبان کے مبینہ بریگیڈ اور بٹالین ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مجموعی طور پر 29 مقامات کو فضائی حملوں میں مؤثر طور پر ہدف بنایا گیا ہے۔

افغان طالبان کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 297 اہلکار ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہوئے، 89 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں ، 18 پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ 135 ٹینک اور مسلح گاڑیوں کو بھی تباہ کردیا گیا ۔

پاکستانی حکام کے مطابق تمام کارروائیاں عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف فوجی اہداف کے خلاف کی جا رہی ہیں اور مقصد اپنی سرزمین کا دفاع اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام طے شدہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔