امریکہ نے ‘دفاع کے حق’ کی حمایت کردی، پاکستان اچھا کام کر رہا ہے، ٹرمپ
امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ لڑائی کے تناظر میں پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مداخلت بھی کر سکتے ہیں، تاہم ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکریٹری ایلیسن ہوکر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جمعے کی شب ان کی پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے گفتگو ہوئی جس میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں ہونے والے جانی نقصان پر ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا، “ہم صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی علاقوں میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف آپریشن غضب للحق شروع کر رکھا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں مداخلت کر سکتا ہے، تاہم ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکہ سے مداخلت کی درخواست کی ہے؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے مزید کہا، “آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔ ان کا وزیر اعظم عظیم ہے، وہاں عظیم جنرل ہے، عظیم رہنما ہے۔”
انہوں نے کہا، “وہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت عزت کرتا ہوں۔”
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے۔