ایران پر امریکا اور اسرائیل کامشترکہ حملہ،تہران پر میزائل داغ دیے

ایران کے 30 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں ایرانی صدر اور انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہیں۔

               
February 28, 2026 · اہم خبریں

امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شمالی علاقوں میں دھماکے ممکنہ طور پر میزائل حملوں کی وجہ سے ہوئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر محفوظ ہیں۔ تہران کے مشرق میں ایک دھماکا ہوا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکے ہوئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی ڈیل نہ ہونے پر ناراض تھے اور امریکی حملے فضا اور سمندر دونوں سے کیے گئے۔

 

 

اسرائیلی دفاعی اہلکاروں نے بتایا کہ ایران میں اسرائیل کا آپریشن امریکا کے ساتھ مل کر کیا گیا، منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا اور حملے کی تاریخ ہفتوں قبل طے کی گئی تھی۔ ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جبکہ عراق نے بھی فضائی ٹریفک معطل کر دی ہے۔

ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران سخت جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان حملوں کا اختتام اب ایران کے اختیار میں نہیں رہا۔

 

 

اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تہران پر پیشگی کارروائی کی گئی تاکہ اسرائیل کے لیے ممکنہ خطرات ختم کیے جا سکیں۔ تہران میں متعدد میزائل یونیورسٹی روڈ اور ریپبلک ایریا پر گرے اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے ملک بھر میں اسکول بند کرنے، عوام کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دینے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔