لائیو امریکی اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے خطے میں میزائل برسا دیئے
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کی صورت حال کی تازہ ترین تفصیلات
اہم نکات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے مل کر حملہ کر دیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکے ہوئے۔
ان حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی شروع کردی ہے۔ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے جا رہے ہیں۔
منسوخی کا اعلان کرنے والی فضائی کمپنیوں میں ایئر فرانس، ایئر انڈیا، برٹش ایئرویز، آئبیریا ایکسپریس، انڈیگو، جاپان ایئرلائنز، لاٹ ایئرلائنز، لفتھانزا، نارویجن ایئر، ترکیش ایئرلائنز، ورجن اٹلانٹک، قطر ایئرویز، ایئر الجزائر، اسکینڈینیوین ایئرلائنز اور وِز ایئر شامل ہیں۔
ایئرلائنز کی جانب سے جاری بیانات میں مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال کے لیے متعلقہ ایئرلائن کی ویب سائٹ یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں، جبکہ منسوخ شدہ پروازوں کے مسافروں کو متبادل انتظامات یا ریفنڈ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے اس آپریشن کو ’’لائنز رور‘‘(Lion’s Roar – شیر کی دھاڑ) کا نام دیا ہے، واشنگٹن نے اس مہم کا نام’’ایپک فیوری‘‘Epic Fury – رزمیہ غصہ) رکھا ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ کئی دنوں کے تصادم کی تیاری کر رہا تھا۔
اسرائیلی میڈیانے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے کئی اہم افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ ان حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق، حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں اور فوجی کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان حملوں کے نتائج ابھی واضح نہیں۔
ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس مہم کے اہداف میں ایران کی فوج، حکومتی علامات اور انٹیلی جنس مراکز بھی شامل تھے۔ ایرانی مقتدرہ کے قریبی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر اور سیاسی عہدیدار ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اسرائیل کے خلاف ڈرون اور میزائل حملے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حوثی تنظیم کے دو سینیئر عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اعلیٰ قیادت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم پہلا حملہ آج رات کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر حملے کیے گئے تو بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی اس علاقے میں حملوں کے باعث متعدد تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا تھا۔
حوثی گروپ، جسے عام طور پر انصار اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے قبل امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بحیرہ احمر میں حملے روک چکا تھا۔
تازہ پیش رفت کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتِ حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ عالمی تجارتی و سفارتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
دوحہ میں نئے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب کچھ ہی دیر پہلے قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس نے حملوں کی دوسری لہر میں ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو مار گرایا ہے۔
دوسری جانب، سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوںکی مسلسل خلاف ورزی پر خوفناک نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہاہے کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد تھوڑی دیر پہلےملک کے کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔
ٹیلی گرام پر جاری فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت، اسرائیلی فضائیہ خطرے کو دور کرنے کے لیے جہاں ضروری ہو، وہاں خطرات کو روکنے (انٹرسیپٹ کرنے) اور ان پر حملہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیرنہیں ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ عوام ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھیں۔ عوام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کرنا جاری رکھیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں پانچ طالبات جاں بحق ہو گئی ہیں، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران پر اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی اور صدر مسعود پزیشکیان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔عہدیدار کے مطابق، حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان حملوں کا نشانہ بنایا گیا تاہم، ان حملوں کے نتائج فی الحال واضح نہیں۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی تھی کہ صدر پزیشکیان مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔
اسرائیل کے چینل 12 نےذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے اندازے کے مطابق، اب تک ایران پر کیے گئے حملوں نے ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے ہدف میںانتہائی بلند کامیابی حاصل کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اندازہ سینئر کمانڈروں اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ [ایران کے سپریم لیڈر علی] خامنہ ای کسی ڈرامائی واقعے (یعنی کسی بڑے جانی نقصان) سے نہیں گزرے۔
اسرائیلی چینل 12 براڈکاسٹر کے مطابق، ایرانی میزائلوں کو فضا میں روکنے (انٹرسیپٹ کرنے) کے بعد ان کے ملبے کی زد میں آکر شمالی اسرائیل میں ایک نو منزلہ عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص انٹرسیپٹر میزائلوں کے ٹکڑے (شراپنل) لگنے سے معمولی زخمی ہوا ہے۔
مزید برآں، عمارت کے ایک اپارٹمنٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران نے خلیجی خطے میں امریکی ائربیسزکونشانہ بنایاہے۔فارس (Fars) نیوز ایجنسی کے مطابق العدید ایئر بیس، قطر،السالم ایئر بیس کویت،الظفرہ ایئر بیس، متحدہ عرب امارات،بحرین میںامریکہ کا پانچواں بحری بیڑے پر حملہ کیا گیاہے۔
خبر رساں ادارہ اے ایف پی سعودی شہر ریاض میں بھی دھماکوں کی اطلاع دے رہا ہے۔
دبئی اور ابوظہبی میں متعدد دھماکوں کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔یہ ابوظہبی پر ہونے والے اس سے پہلے کے حملے کے علاوہ ہے، جس کے بعد وہاں کی فضائی حدودپہلے ہی بند کر دی گئی ہے۔
ایرانی حکام نے خلیجی خطے میں مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے قطر میں واقع Al-Udeid Air Base، کویت میں Al-Salem Air Base، متحدہ عرب امارات میں Al-Dhafra Air Base اور بحرین میں قائم امریکی پانچویں اڈے Naval Support Activity Bahrain کو نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹس میں ان کارروائیوں کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے مخصوص اہداف کے خلاف کیے گئے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی 13سال پرانی ٹویٹ وائرل ہورہی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھاتھا’’یاد رکھیں کہ میں نے بہت عرصہ پہلے یہ پیش گوئی کی تھی کہ صدر اوباما اپنی صحیح طریقے سے مذاکرات کرنے کی نااہلی کی وجہ سے ایران پر حملہ کر دیں گے،،وہ اس میں ماہر نہیں !‘‘
یہ ٹویٹ انہوں نے 11نومبر 2013 کوکی تھی، جب وہ صدر نہیں بلکہ ایک عام شہری اور بزنس مین تھے۔اس وقت ٹرمپ صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے سخت ناقد تھے۔
نومبر 2011 میں ٹرمپ نے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ باراک اوباما دوبارہ انتخاب جیتنے کے لیے ایران کے ساتھ جنگ شروع کر دیں گے تاکہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکے۔ٹرمپ نے اوباما کو کمزورقرار دیا اور کہا کہ چونکہ اوباما مذاکرات کا ہنر نہیں جانتے، اس لیے وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے فوجی طاقت کا سہارا لیں گے۔
>
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات،منامہ، بحرین،کویت اورقطر میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
غیرملکی میڈیاکے مطابق ،ایران پر امریکہ،سرائیل اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں ان ممالک میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے دارالحکومت کے اوپر ایرانی میزائل گرانے کی تصدیق کی ہے، بحرین میں امریکی بحری بیڑے (5th Fleet) کے ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکے ہوئے ہیں۔
ا ان تمام ممالک نے اپنی فضائی حدودعارضی طور پر بند کر دی ہیں۔

