ایران جنگ کے پہلے 6 دن ، ایران کے حملےجاری، تیل قیمتوں میں اضافہ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کی صورت حال کی تازہ ترین تفصیلات
ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
اہم نکات
- ایران سے اسرائیل اور امریکہ کی جنگ جمعرات کو چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔
- پچھلے چھ دن کا احوال اس مضمون میں ہے۔ یہ صفحہ اب بند کیا جا رہا ہے۔
- مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا نیا لائیو پیج دیکھیں۔
ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ میں جمعرات کو غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں سب سے نمایاں کارروائی متحدہ عرب امارات (UAE) کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے تھے، جنہیں اماراتی وزارت دفاع نے فضا میں ہی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے اس کی سرحد عبور کر کے ‘ناخچیوان’ (Nakhchivan) کے خود مختار علاقے میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جس میں کئی شہری زخمی ہوئے، اگرچہ ایران نے ان حملوں کی تردید کی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہو گیا ہے اور خلیج میں ہزاروں بحری مسافر اور سیلرز پھنس کر رہ گئے ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور رام اللہ کے علاقوں میں بھی شدید سائرن سنائی دیے گئے، جو وسطی اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کی جانب ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشان دہی کر رہے تھے۔
دوسری جانب، تہران اور ایران کے دیگر شہروں پر امریکہ اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری رہا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعرات کے حملوں میں ایران کے اندر موجود 300 سے زائد بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے تاکہ اسرائیل پر ہونے والے حملوں کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ سول انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں اب تک 1,230 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے 11 سے زائد بڑے ہسپتال اور 3,600 سے زائد رہائشی و تجارتی مراکز ان فضائی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جس سے طبی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
لبنان میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جہاں اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے گنجان آباد جنوبی مضافاتی علاقے ‘داحیہ’ (Dahiyeh) کو مکمل طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے دھمکی دی ہے کہ اس علاقے کا حال بھی غزہ اور خان یونس جیسا کر دیا جائے گا۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 102 لبنانی شہری شہید اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو کی بڑی کارروائی میں اسرائیل نے شمالی لبنان کے شہر طرابلس (Tripoli) میں حماس کے ایک اہم کمانڈر وسیم عطا اللہ علی کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا ہے۔ جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی کے شمال تک تمام علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے باعث اب تک 84,000 سے زائد لبنانی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل چکے ہیں اور سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام دیکھا جا رہا ہے۔

لندن: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد برطانیہ کی گیس مارکیٹ میں قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں، جس کے باعث گھریلو توانائی کے بل میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
جولائی سے ایک عام گھرانے کا مشترکہ گیس اور بجلی کا بل سالانہ 1,800 پاؤنڈ تک پہنچ سکتا ہے، یعنی ہر گھر پر اضافی 160 پاؤنڈ کا بوجھ پڑیگا۔
ایران نے خلیج ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل روک دی ہے، جبکہ گزشتہ چار ماہ کے مقابلے میں گروسری کی قیمتوں میں بھی 4.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں، ماہرین کے مطابق یہ مہنگائی کا بحران صارفین کی جیب پر شدید اثر ڈالے گا اور حکومت پر فوری اقدامات کا دباؤ بڑھائے گا۔
اسلام آباد: جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی، قطر گیس نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں آگاہ کر دیا۔
ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ مارچ کیلئے قطر سے 8 ایل این جی کارگوز آنے تھے، صرف 2 ہی آئے، ایل این جی کے بقیہ 6 کارگو 7، 11، 12 ،16، 20 اور 21 مارچ کو آنے تھے۔
پاکستان کو موجود ایل این جی کی لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑے گی، 20 سے 21 مارچ تک لوڈ مینخمنٹ کرکے ایل این جی دستیاب رہ سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صنعتی سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کو ایل این جی سپلائی متاثر ہوگی۔
ابوظہبی میں حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک ڈرون کو مار گرایا گیا جس کے بعد اس کے ملبے اور ٹکڑے لگنے کے باعث شہر کے دو مختلف مقامات پر چھ غیر ملکی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
ابوظہبی میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا اس واقعے کے نتیجے میں چھ پاکستانی اور نیپالی شہریوں کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں ہیں۔
تہران: ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’یہ حملے عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، کرنسیاں عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے عام لوگوں کی قوتِ خرید بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہمارے لیے یعنی ایرانیوں کے لیے اس کی قیمت ناقابلِ بیان حد تک زیادہ ہے۔ ہمارے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے کیونکہ حملہ آور جان بوجھ کر شہری علاقوں اور ایسی جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ تکلیف اور جانی نقصان ہو سکے۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ایران پر حملوں میںمصنوعی ذہانت کا استعمال سوچ کی رفتار (speed of thought) سے بھی تیز کارروائیوںکے ایک نئے دور کا پیش خیمہ بن گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں انسانی فیصلہ ساز محض مشین کے بنائے ہوئے منصوبوں کی توثیق تک محدود ہو سکتے ہیں۔

آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اس کے علاقے پر دو ڈرون فائر کیے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایک ڈرون نخچوان شہر کے ایئرپورٹ پر گرا جو ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے، جبکہ دوسرا ڈرون ایک اسکول کے قریب آ گرا۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے آذربائیجان میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا ہے۔
بیان میں ایران سے اس واقعے کی وضاحت طلب کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آذربائیجان اپنے دفاع کے لیے “مناسب جوابی اقدامات” کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
US-Israeli attacks on residential buildings in Tehran left huge destruction.
Follow: https://t.co/mLGcUTSA3Q pic.twitter.com/hWLAs8DKqd
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 5, 2026
یران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے ترکی پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اپنے پڑوسی اور دوست ملک ترکی کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اس کی سرزمین پر کسی بھی میزائل داغنے کی تردید کرتا ہے۔‘
بدھ کے روز نیٹو نے ترکی کی فضائی حدود میں دو مبینہ ایرانی میزائل مار گرائے تھے جس کے بعد ترکیہ نے کہا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
سابق انٹیلیجنس چیف ترکی الفیصل نے اہم بیان دیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کویت کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر میں ’بڑا دھماکہ‘ ہوا، جس سے تیل پھیل گیا ہے۔
میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس دھماکے کے بعد کارگو ٹینک سے نکلنے والا تیل پانی میں موجود ہے، جس کے ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں جبکہ عملہ محفوظ ہے۔‘
امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ روکنے سے متعلق قرارداد 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد کردی گئی، اس طرح ریپبلکن ارکان نے جنگ کی حمایت کا اظہار کیا ہے
واشنگٹن میں بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں سینیٹ کے ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو روکنے کے مطالبے سے متعلق قرارداد اکام بنا دی۔ اس قرارداد، جسے “وار پاورز ریزولوشن” کہا جاتا ہے، کا مقصد مزید حملوں سے قبل کانگریس کی منظوری کو لازمی قرار دینا تھا۔
قرارداد 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد ہوئی۔ ووٹنگ زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی گو کہ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اس کی مخالفت کی۔
قرارداد پر ووٹنگ کے دوران صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیموکریٹ سینیٹرز بڑی تعداد میں ایوان میں موجود رہے اور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے، حالانکہ عموماً ارکان ووٹ ڈال کر ایوان سے چلے جاتے ہیں۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ آج ہر سینیٹر کو فریق چننا ہوگا، آیا وہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگوں سے تنگ آئے امریکی عوام کے ساتھ کھڑا ہے یا صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع کے ساتھ۔
دوسری جانب سینیٹ میں ریپبلکن قیادت کے اہم رکن جان براسو نے بحث کے دوران کہا کہ ڈیموکریٹس جنگی اختیارات کی قرارداد لا کر صدر کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ ریپبلکن ارکان ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں بدھ کی شب اور جمعرات کو علی الصبح بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔ عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق دیگر شہروں سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ادھر عراق کے شمال میں کردوں کے علاقے میں دھماکے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ایرانی کرد باغی گروپوں کو تہران حکومت کے خلاف مسلح کیا ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ حملے کس نے کیے۔
اسرائیل نے جمعرات کو علی الصبح اعلان کیا کہ ایران نے اس کی جانب مزید میزائل فائر کیے ہیں جنہیں آئرن ڈوم ناکارہ بنا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر وزیراعظم ہاؤس میں بدھ کو ان کیمرہ بریفنگ ہوئی۔
جنگ کے پانچویں روز یعنی بدھ کو ایک بڑا واقعہ سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی بحری جہاز کی تباہی تھا جسے امریکی آبدوز نے تار پیڈو کردیا۔ 100 کے لگ بھگ ایرانی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی بحریہ کا یہ جہاز مشقوں میں شرکت کیلئے بھارت گیا تھا اور وہاں سے واپس آ رہا تھا۔ اس کی تباہی کے بعد بھارت پر بھی سوالات اٹھ رہےہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بندرگاہیں امریکہ کو استعمال کرنے کیلئے نہیں دیں۔
اسرائیل نے ایران پر مزید حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے 100 سے زائد طیاروں نے ایران میں بمباری کی۔ نیتن یاہو حکومت نے دعویٰ کیا کہ تہران کے مشرق میں ایک فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کے دوسرے ممالک پر حملے 80 فیصد کے لگ بھگ کم ہو گئے ہیں۔
ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا ذخیرہ ہے جن کے ذریعے وہ مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بحرین میں ایک فوجی اڈے سے ایرانی ڈرون ٹکرانے کی ویڈیو بدھ کو وائرل ہوئی۔
گذشتہ روز ایک اہم بات ایران کی جانب سے ترکی پر میزائل فائر کیا جانا تھا۔ نیٹو نے ایران کے داغے گئے دو میزائل ترکی کی فضائی حدود میں مار گرائے۔ کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ترکی نے کہا کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کیخلاف بھی حملے کیے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین مؤخر کردی گئی جس کے دو اسباب بتائے گئے۔ اول یہ کہ امریکہ یا اسرائیل جنازے پر حملہ کر سکتے ہیں اور دوسرا ایرانی حکام کا یہ کہنا تھا کہ دوردراز سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے آنا چاہتے ہیں اور انہوں نے وقت کی درخواست کی ہے۔
ایران میں اموات ایک ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ بدھ کو کویت میں ایک بچی میزائل کا ٹکڑا لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔ لبنان میں 70 کے لگ بھگ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ امریکہ نے اپنے 6 فوجی مارے جانے کی تصدیق کی۔ اسرائیل نے 11 شہریون کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔
جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند ہے اور تیل اور ایل این جی پی کی خلیج سے ترسیل بند ہوگئی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں ہنگامہ برپا ہے۔