ایران جنگ کے پہلے 6 دن ، ایران کے حملےجاری، تیل قیمتوں میں اضافہ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کی صورت حال کی تازہ ترین تفصیلات
ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
بغداد: عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن ، ملک اندھرے میں ڈوب گیا۔
عراق کی وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔
عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے ’تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔‘
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، وزارت بجلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلیک آؤٹ کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب، بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی محفوظ طریقے سے عراق سے نکل سکیں، نکل جائیں۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ جب تک حالات ’روانگی کے لیے محفوظ نہ ہوں‘ اس وقت تک وہ کسی محفوظ جگہ پناہ لے لیں۔
نئی دہلی: بھارت نے ان دعوؤں کو “جھوٹا اور من گھڑت” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جاری حالیہ تنازع میں بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے۔
دعوے کہ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ استعمال کر رہی ہے، سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ہم عوام اور میڈیا کو ایسے من گھڑت تبصروں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ”OAN پر کیے جانے والے یہ دعوے کہ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ استعمال کر رہی ہے، سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ہم عوام اور میڈیا کو ایسے من گھڑت تبصروں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حال ہی میں سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو ٹارپیڈو حملے سے نشانہ بنا کر غرق کر دیا تھا۔نئی دہلی: بھارت نے ان دعوؤں کو “جھوٹا اور من گھڑت” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جاری حالیہ تنازع میں بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے۔
دعوے کہ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ استعمال کر رہی ہے، سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ہم عوام اور میڈیا کو ایسے من گھڑت تبصروں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ”OAN پر کیے جانے والے یہ دعوے کہ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ استعمال کر رہی ہے، سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ہم عوام اور میڈیا کو ایسے من گھڑت تبصروں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حال ہی میں سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو ٹارپیڈو حملے سے نشانہ بنا کر غرق کر دیا تھا۔
کولمبو:سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
سری لنکا کی بحریہ کے مطابق امریکی افواج کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں میں ڈوبائے گئے ایرانی جنگی جہاز سے اب تک کم از کم 87 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
بحریہ کے کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ جب فورسز جائے وقوعہ پر پہنچیں تو جہاز کی کوئی علامت نہیں ملی، صرف تیل کے دھبے اور لائف رافٹس دیکھے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پانی میں تیرتے ہوئے افراد کو دیکھا، لاشوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔
سری لنکا کے وزیرِ خارجہ کے مطابق جہاز پر تقریباً 180 افراد سوار تھے۔
سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔
دوسری جانب امریکی عہدیدار نے سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔
بیجنگ:چین نے ثالثی کےلیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کردیا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر سعودی عرب اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا، اختلافات پُرامن طریقے سے حل کرنے کے سعودی مؤقف کو سراہتے ہیں۔
وانگ ای نے مزید کہا کہ تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے، توانائی اور غیر عسکری اہداف پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، جہاز رانی کے لیے بحری راستے محفوظ ہونے چاہئیں۔
تل ابیب: اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس نے ایران پر پانچ ہزار سے زائد بم گرائے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ تہران کے آس پاس کا ایریا تھا۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے میزائل چھوڑے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہے۔
ایک ویڈیو جو الجزیرہ سمیت کئی میڈیا اداروں نے شائع کی میں ایک ایرانی ڈرون کو بحرین میں ایک فوجی اڈے سے ٹکراتے اور وہاں سے شعلے اٹھتے دکھایا گیا ہے۔ pic.twitter.com/cn2lvIqZOn
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) March 4, 2026
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مذاکرات کی آمادگی کا پیغام پہنچایا، تاہم واشنگٹن میں اس پیش رفت پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
اخبار نے بدھ کو ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کی جانب سے یہ پیشکش ایک نامعلوم ملک کی خفیہ ایجنسی کے ذریعے کی گئی۔ اخبار نے اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ اور ایک مغربی ملک کے عہدیداروں کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے فوری طور پر اس خبر پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن میں حکام اس بارے میں شکوک رکھتے ہیں کہ آیا ایران یا ٹرمپ انتظامیہ واقعی فوری طور پر کسی “آف ریمپ” یعنی کشیدگی کم کرنے کے راستے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر نے منگل کے روز امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو فی الحال مسترد کر دیا تھا۔
ایران نے خلیجی ممالک کے بعد ترکی پر بھی میزائل فائر کردیا۔ ترکی کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل نیٹو دفاعی نظام نے ترک فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی تباہ کر دیا، میزائل کے ملبے کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ انقرہ نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل کو فضا میں مار گرایا گیا اور اس کا ملبہ بحیرۂ روم کے قریب ضلع دورت یول میں گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ترکی اپنے علاقے اور شہریوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، چاہے خطرہ کہیں سے بھی آئے۔ وزارتِ دفاع نے خبردار کیا کہ ملک کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ ہے۔
ترکی نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
سری لنکا کے پانیوں میں امریکہ یا اسرائیل کے ممکنہ آبدوز حملے کا نشانہ بننے والے ایرانی جنگی جہاز کے عملے کو بچانے کیلئے سری لنکا سرگرم ہے۔
یہاں جہاز سری لنکا کے شہر گالے Galle سے 40 کلومیٹر دور موجود تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ جہاز کو آبدوز نے نشانہ بنایا ہے۔
سری لنکا یا ایران نے تاحال اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
سری لنکا کی فوری کوشش یہ ہے کہ عملے کو بچایا جائے تاکہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات خراب نہ ہوں۔ عملے کے 101 ارکان لاپتہ ہیں۔
بعد ازاں سری لنکا کے سیکرٹری وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔
سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
زخمیوں میں بعض کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور انہوں نے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی شراکت دار کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کے حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور تبدیل کرنے تک آپریشن جاری رکھیں گے۔
سری لنکا کے ساحل کے قریب ایرانی بحریہ کے ایک جہاز پر آبدوز حملے کے بعد کم از کم 101 اہلکار لاپتہ اور 78 زخمی ہو گئے ہیں، کب کہ 30 کو سری لنکا نے بچا لیا ہے۔
سری لنکا کی وزارت دفاع کے ترجمان نےبتایا کہ ایرانی جہاز سے مدد کی پکار (distress call) موصول ہونے کے بعد سری لنکن بحریہ نے ریسکیو مشن روانہ کیا۔ حملے کے وقت جہاز پر عملے کے 180 ارکان سوار تھے۔ وزیر خارجہ وجیتھا ہیرتھ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک ڈوبتے ہوئے جہاز سے 30 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور سری لنکا اس معاملے پر مناسب کارروائی کرے گا۔
مقامی میڈیا کے مطابق، اس جہاز کی شناخت IRIS Dena کے نام سے ہوئی ہے، جو ایران کے جنوبی بیڑے کا ایک Moudge-class فریگیٹ ہے۔ یہ واقعہ گال (Galle) شہر کے قریب جنوبی ساحل پر پیش آیا، جہاں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
آبدوز حملے کے محرکات ابھی تک واضح نہیں ، تاہم یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں ایرانی بحریہ کے خلاف مسلسل حملوں کی اطلاع دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے 10 بحری جہاز ڈبو دیے ہیں، اگرچہ انہوں نے مقام کی وضاحت نہیں کی۔
سابق ایرانی صدر محموداحمدی نژاد زندہ ہیں، وہ ایران میں منظر عام پر آگئے۔
امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں سابق ایرانی صدر کی موت سے متعلق متضاد خبریں سامنے آئی تھیں۔ایران کی خبر رساں ایجنسی ایلنا نے اتوار کو اطلاع دی کہ محمود احمدی نژاد تہران میں ایک فضائی حملے میں جان سے چلے گئے ۔ایلنا نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 69 سالہ احمدی نژاد مشرقی تہران میں اپنی رہائش گاہ پر محافظ سمیت مارے گئے ہیں۔ تاہم ترک خبر رساں ادارے انادولو نے ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ سابق ایرانی صدر زندہ اور محفوظ ہیں۔
انادولو کے مطابق احمد نژاد کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ میں ان سے رابطے میں ہوں۔ سب ٹھیک ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے وڈیومنظر عام پر آئی ہے جس میں محموداحمدی نژادکو بخیریت دیکھاجاسکتاہے۔ ایرانی ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ زندہ اور سلامت ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے شہروں کراچی اور لاہور میں تعینات غیر ہنگامی عملے کو اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
یہ اقدام اتوار کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد اٹھایا گیا، جس میں 10 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے تھے۔ مظاہرین میں سے بعض نے ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد مشتعل ہو کر قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران مجموعی طور پر 24 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہاں معمول کے مطابق کام جاری ہے۔

ایرانی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اسٹریٹجک بحری راستے پر نگرانی اور سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کے ساتھ امریکی نیوی کو بھی تعینات کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی مالیاتی ادارے تجارتی جہازوں کے انشورنس معاملات میں مدد فراہم کریں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق نو ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا ہے۔
تاہم سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ میزائل اور ڈرون کہاں سے داغے گئے تھے۔
کویت میں شہری علاقے سے گرنے والے میزائل کے ٹکڑے گرنے سے زد میں آکر ایک گیارہ سالہ بچی جاں بحق ہوگئی جبکہ چار افراد زخمی ہیں۔
کویت کی وزارتِ صحت کے ترجمان ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السند نے کہا کہ ’طبی عملے کی بھرپور کوشش کے باوجود بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکی۔‘
السند کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ سمیت خاندان کے چار افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
کویتی فوج نے کہا ہے کہ اس نے فضا میں کئی میزائلوں کو ناکارہ بنایا تھا، جس کے بعد ان کا ملبہ ایک رہائشی عمارت پر گرا جس کے نتیجہ میں یہ تمام افراد زخمی ہوئے ہیں

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق افغانستان، کیمرون،میانمار اور سوڈان کے طلبا ویزے بند کئے جائں گے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے ورک ویزے بھی ختم کئے جا رہے ہیں۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ پناہ کی درخواستوں سے متعلق اضافے پر پہلی بار ایمرجنسی بریک لگائی ہے۔

خلیج عرب آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں اب کوئی ایرانی جہاز نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ ایران میں تقریباًدوہزار اہداف پر حملے کیے۔ ایران نے جواب میں 500بلیسٹک میزائل اور 2ہزار سے زائد ڈرون داغے۔
منگل کو جنگ کے چوتھے دن کا آغاز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملے سے ہوا۔ جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی۔ دن کا اختتام دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے سے ہوا۔
ایران نے خلیجی ممالک کو دھمکی دی کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام معاشی مراکز کو نشانہ بنائے گا۔ پہلے ہی دبئی ایرانی حملوں میں زیادہ نشانہ بن رہا ہے۔
اسرائیل نے منگل ایران پر شدید حملے کئے۔ تہران، اصفہان ،بوشہر اور دیگر علاقے نشانہ بنائے۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی دارالحکومت بیروت پر بھی حملہ کیا اور لبنانی سرحدی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ ہلال احمر کے مطابق ایران میں منگل تک 787 افراد مارے جا چکے تھے۔ ان میں وہ ڈیڑھ سو سے زائد طالبات شامل ہیں جو اسکول پر حملے میں شہید ہوئیں۔ ان کی اجتماعی نماز جنازہ منگل کو ادا کی گئی۔
امریکہ میں بحث اب اس طرف چل پڑی ہے کہ کیا جنگ شروع کرنا ضروری تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنا ہی تھا جس کے بعد ایران خطے میں امریکی اہداف پر حملے کرتا اس لیے امریکہ نے پہل کی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ برسوں جاری رہنے والی جنگ میں داخل نہیں ہوگا۔

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔
ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔ 39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں مزید دو فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ کویت میں ایک امریکی بنکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایران کا جوابی حملہ فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلا۔
دبئی کے سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام کے مطابق صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈرون نے قونصل خانے کی عمارت سے متصل پارکنگ لاٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ لگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کیمرے کے سامنے آنے سے قبل انہیں موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق ڈرون نے چانسیری عمارت کے ساتھ واقع پارکنگ ایریا کو نشانہ بنایا۔
روبیو نے کہا کہ قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ ہے اور امریکا پہلے ہی اپنے بعض سفارتی دفاتر سے عملے کی واپسی کا عمل شروع کر چکا تھا۔
امریکی قونصل خانہ دبئی کے گنجان آباد سفارتی علاقے میں واقع ہے، جہاں برطانوی سفارتخانہ اور سعودی قونصل خانہ بھی قریب ہی موجود ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔